ویب ڈیسک: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ ملک میں جاری سیاسی بحران اور انتخابی بے ضابطگیوں کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کارفرما ہے، اور پیپلز پارٹی، ن لیگ یا پی ٹی آئی — سب اسی اسٹیبلشمنٹ کے مہرے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ نے انتخابی نظام کو بری طرح مسخ کر دیا ہے، اور اسی وجہ سے عوامی رائے کی سچائی سامنے نہیں آنے دی جاتی۔
تربیت گاہ سے خطاب
لاہور میں جماعت اسلامی کی تربیت گاہ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے حالیہ انتخابات اور مخصوص نشستوں کی بندر بانٹ پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ:“مخصوص نشستوں کے غیر منصفانہ فیصلوں کی مذمت کرتے ہیں، اور یہ سیٹیں پی ٹی آئی کو دینا انصاف کا تقاضا ہے۔ یہاں سیٹیں چھین کر من پسند افراد کو دی جاتی ہیں جو جمہوری اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔”
اشرافیہ اور مقتدر ٹولے پر کڑی تنقید
حافظ نعیم نے مقتدر طبقے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ:"یہ ٹولہ آئین و قانون کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور ملک کو بند گلی میں دھکیل رہا ہے۔"انہوں نے کہا کہ حکمران طبقہ اربوں روپے کے اشتہارات کے ذریعے عوام کو جعلی خوشحالی کے خواب دکھا رہا ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
غزہ و کشمیر پر خاموشی اور منافقت کا رویہ
امیر جماعت اسلامی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ:"یہ سب باجوہ کو ایکسٹینشن دینے اور اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں، مگر غزہ اور کشمیر میں جاری مظالم پر خاموش رہتے ہیں۔"انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا کام صرف مذمت کرنا نہیں بلکہ عملی اقدامات اٹھانا ہوتا ہے۔
جماعت اسلامی کا منشور: نفرت، تعصب اور گالی کی سیاست کا خاتمہ
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک سے گالی، گولی، تعصب اور نفرت کی سیاست کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ:جماعت اسلامی ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور جمہوری اقدار کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔ہم فروعی اختلافات سے نکال کر قوم کو اتحاد و یکجہتی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔جماعت اسلامی سیاسی عمل کو پرامن اور بامقصد انداز میں آگے بڑھانا چاہتی ہے۔
سیاسی تجزیہ
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حافظ نعیم الرحمٰن کی جانب سے تمام بڑی سیاسی جماعتوں اور اسٹیبلشمنٹ پر یکساں تنقید، جماعت اسلامی کی غیر جانب دارانہ اور اصولی سیاست کو اجاگر کرتی ہے۔ ان کی قیادت میں جماعت اسلامی نوجوانوں اور شہری طبقات میں سیاسی شعور اور بیداری پیدا کر رہی ہے۔