کراچی میں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمٰن نے پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ ایک بار پھر شہر میں کرپشن، قبضے اور بدامنی کو فروغ دے رہی ہے۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے اور شہر میں ظلم، کرپشن، اور قبضہ مافیا کا راج بڑھتا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کی مبینہ گٹھ جوڑ کی وجہ سے کراچی کے عوام کو بے شمار مشکلات کا سامنا ہے، اور شہر کا سسٹم صرف اسلام آباد میں بیٹھے حکام تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جس سے کراچی کے مسائل حل نہیں ہو رہے۔ حافظ نعیم الرحمٰن نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کی "اے پلس" جماعت بن چکی ہے، اور ماضی میں جو دعوے کیے گئے تھے کہ نظام درست ہوگا، وہ صرف دعوے ثابت ہوئے ہیں، اور زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔حافظ نعیم نے کہا کہ کراچی کے عوام کو اب سوشل میڈیا اور میمز بنانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا، مگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ حالات اب صرف سوشل میڈیا سے نہیں سنبھالے جا سکتے۔
عوام کو سڑکوں پر نکل کر آواز بلند کرنی ہوگی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عید کے بعد کراچی میں ایک باقاعدہ احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا جس کا پہلا مرحلہ وزیراعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت عوام کو ریلیف فراہم نہیں کرتی تو سڑکوں پر نکلنا ناگزیر ہو جائے گا۔ حافظ نعیم نے واضح کیا کہ ان کا مقصد احتجاج میں شرکت کا شوق نہیں، بلکہ عوام کے حقوق کی جنگ لڑنا ہے، اور جب عوام مر رہے ہوں، روزگار چھن رہا ہو اور لوٹ مار عروج پر ہو، تو خاموش رہنا ظلم کا ساتھ دینے کے مترادف ہوگا۔آخر میں حافظ نعیم نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی دباؤ کے ذریعے اپنے حقوق حاصل کرے گی۔ اگر حکومت بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنا چاہتی ہے تو جماعت اسلامی تیار ہے، لیکن اگر وہ نہ مانے تو عوامی طاقت سے حق چھیننا پڑے گا۔