ویب ڈیسک: ملک بھر بالخصوص شہری علاقوں میں چینی کی قیمتیں تاحال کنٹرول نہ ہوسکیں۔ اوپن مارکیٹ میں چینی 190 سے 200 روپے فی کلوگرام کے درمیان فروخت ہو رہی ہے جبکہ یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی ناپید ہے۔
ذرائع کے مطابق شوگر ملز مالکان کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگر حکومت چینی کی برآمد (ایکسپورٹ) کی اجازت دے تو مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تاہم، ان دعوؤں کے برعکس، ایکسپورٹ کی اجازت ملنے کے بعد چینی کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔واضح رہے کہ ایکسپورٹ کی اجازت سے قبل چینی کی قیمت 140 سے 145 روپے فی کلوگرام کے درمیان تھی۔ تاہم، پچھلے تین ماہ سے چینی مسلسل 190 روپے یا اس سے زائد قیمت پر فروخت کی جا رہی ہے۔ اوپن مارکیٹ میں پیکنگ شدہ چینی 200 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے، جو عام صارفین کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہے۔دوسری جانب یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی سرے سے دستیاب نہیں ہے، جس سے نچلے اور متوسط طبقے کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت اور انتظامیہ صرف زبانی دعوے کرتی ہے، عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔
حکومتی پالیسی اور شوگر ملز کی اجارہ داری پر سوالیہ نشان
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شوگر ملز مالکان نے حکومت کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ چینی کی برآمد سے مقامی قیمت متاثر نہیں ہوگی، لیکن یہ دعویٰ محض دھوکہ ثابت ہوا۔ اس وقت مارکیٹ میں سپلائی محدود اور مانگ زیادہ ہونے کے باعث قیمتیں کنٹرول سے باہر ہو چکی ہیں۔
شہریوں کا مطالبہ
شہریوں اور صارفین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:چینی کی قیمتوں پر فوری کنٹرول کیا جائے۔یوٹیلیٹی اسٹورز پر چینی کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔شوگر ملز مالکان کے خلاف کارروائی کی جائے جنہوں نے جھوٹے دعوے کرکے برآمدات کی اجازت حاصل کی۔ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جائے۔اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو آنے والے دنوں میں چینی کی قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جو عام عوام کے لیے شدید مہنگائی کا باعث بنے گا۔