لاہور (زیڈ این این) لاہور ہائیکورٹ نے تعمیرات سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے آئندہ کوئی بھی عمارت گرین بلڈنگ سٹینڈرڈ کے بغیر تعمیر نہیں کی جائے گی۔ یہ فیصلہ جسٹس شاہد کریم نے سموگ سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران دیا۔سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل اسد علی باجوہ، اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل حسن اعجاز چیمہ، ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات علی اعجاز اور ماحولیاتی کمیشن کے ممبران عدالت میں پیش ہوئے۔ایل ڈی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نئے بلڈنگ بائی لاز میں گرین بلڈنگ سٹینڈرڈ شامل کر دیے گئے ہیں، اور پاکستان گرین بلڈنگ کونسل کا سرٹیفکیٹ اب ہر نئی عمارت کے لیے لازمی ہوگا۔جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ زیر تعمیر عمارات پر بھی ان قوانین کا اطلاق کیا جائے اور پہلے سے تعمیر شدہ عمارتوں کو بھی ممکنہ حد تک گرین سٹینڈرڈز کے مطابق بنانے کی کوشش کی جائے۔عدالت نے کہا کینال پر کسی منصوبے کے تحت ایک بھی درخت نہ کاٹا جائے۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ کینال روڈ پر موجود درخت دہائیوں پرانے اور ماحول دوست ہیں، جنہیں کاٹنا ماحول کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ عدالت نے یہ بھی یاد دلایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے بھی کینال روڈ پر درختوں کی کٹائی کے خلاف فیصلہ موجود ہے۔عدالت نے پنجاب حکومت کے وکیل سے ییلو بس منصوبے پر بھی استفسار کیا۔ جس پر وکیل نے بتایا کہ حکومت الیکٹرک ییلو بسیں متعارف کروا رہی ہے اور اس پر سروے جاری ہیں۔ عدالت نے اس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ منصوبہ ضرور لائیں، ہم اس کے خلاف نہیں ہیں، لیکن کینال روڈ پر درختوں کو ہر صورت بچایا جائے۔عدالت نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات ہم سب کے سامنے ہیں، اس لیے ایسا کوئی منصوبہ نہ لایا جائے جس سے ماحولیاتی نقصان ہو یا درختوں کی کٹائی کی نوبت آئے۔