ویب ڈیسک: بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر موجود مرکزی اکاؤنٹ بالآخر بھارت میں بحال کر دیا گیا ہے۔
بحالی سے قبل اکاؤنٹ کی معطلی نے نہ صرف عالمی میڈیا بلکہ انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تنقید کو جنم دیا، اور بھارت میں آزادی صحافت پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھا دیے۔
معطلی کب اور کیوں؟
رائٹرز کا اکاؤنٹ، جس کے 25 ملین سے زائد عالمی فالوورز ہیں، ہفتہ کی رات بھارت میں بلاک کیا گیا۔ایکس پر اکاؤنٹ کھولنے کی کوشش کرنے والے صارفین کو پیغام دیا گیا:"رائٹرز کا اکاؤنٹ بھارت میں قانونی مطالبے کی بنیاد پر روکا گیا ہے۔"
ایکس کی وضاحت: خاموشی یا ابہام؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X کی جانب سے رائٹرز کی ٹیم کو ای میل موصول ہوئی، جس میں کہا گیا:"ہم بھارت میں آپ کے اکاؤنٹ تک رسائی کو بحال کر رہے ہیں۔"تاہم ای میل میں اکاؤنٹ کی معطلی کے پسِ پردہ محرکات یا قانونی بنیاد کی کوئی وضاحت فراہم نہیں کی گئی۔
بھارتی حکومت کی تردید
بھارتی حکومت کے ترجمان نے بیان جاری کیا کہ:"کسی بھی سرکاری ادارے نے رائٹرز کا اکاؤنٹ بند کرنے کی درخواست نہیں دی۔"اس کے باوجود، معطلی اور پھر اچانک بحالی نے شفافیت اور سچائی کے فقدان کو نمایاں کر دیا ہے۔
رائٹرز کا موقف
رائٹرز کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ادارہ ایکس کے ساتھ مسئلے کے حل کے لیے رابطے میں رہا۔
ترجمان کے مطابق:"ہم آزادی صحافت کے اصولوں پر قائم رہیں گے اور معلومات کی آزادانہ ترسیل کے لیے کام کرتے رہیں گے۔"
بین الاقوامی تنقید اور سوالات
عالمی صحافتی اداروں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور انٹرنیٹ فریڈم کی تنظیموں نے اس واقعے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
تنقید کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ:"اگر بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویدار ہے تو وہاں صحافتی اداروں کی خاموشی کیسے جمہوری اصولوں کے مطابق ہے؟"
خلاصہ:
رائٹرز کا اکاؤنٹ تو بحال ہو گیا، مگر سوالات بدستور باقی ہیں:
اکاؤنٹ معطل کس نے کروایا؟
کس قانون کے تحت؟
اور مستقبل میں صحافتی ادارے کتنے محفوظ ہیں؟
یہ واقعہ بھارت میں اطلاعات کی آزادی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حکومتی اثر و رسوخ پر گہری تشویش کا باعث بن گیا ہے۔