افغان طالبان کے پنج سالہ دور میں آزادی صحافت اور تنقید پر پابندیاں

افغان طالبان کے پنج سالہ دور میں آزادی صحافت اور تنقید پر پابندیاں

طالبان رجیم کے پانچ سالہ دور میں صحافیوں کو سنگین مسائل کا سامنا رہا ہے جن میں گرفتاری، دھمکیوں، ہراسانی اور سینسر شپ شامل ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، اس دوران آزاد میڈیا پر پابندیاں عائد کی گئیں، صحافیوں پر تشدد کیا گیا اور سیکڑوں میڈیا ادارے بند کیے گئے۔عالمی جریدے ماڈرن ڈپلومیسی کے مطابق، افغان طالبان رجیم نے تقریباً 80 فیصد خواتین صحافیوں کو جبری طور پر ملازمت چھوڑنے پر مجبور کیا، جس سے خواتین صحافت کو شدید نقصان پہنچا۔ تجزیہ کار فرشتہ عباسی نے کہا کہ طالبان نے تنقیدی آوازوں کو دبانے کے لیے صحافیوں کو سخت سزائیں دی ہیں۔اقوام متحدہ کے افغان مشن کی رپورٹ کے مطابق، 2024 میں 336 صحافیوں سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور 256 بلاجواز گرفتاریوں کا انکشاف ہوا ہے۔افغان نشریاتی ادارہ کے سربراہ سعد محسینی کا کہنا ہے کہ طالبان کی کڑی پابندیوں کے باوجود، افغان عوام کے مستقبل کے لیے میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آزاد صحافت اور عالمی میڈیا پر پابندیاں لگا کر، اور سوشل میڈیا پر جعلی افغان اکاؤنٹس کے ذریعے منظم پروپیگنڈہ پھیلایا جا رہا ہے۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے، خاص طور پر خواتین پر لگائی گئی پابندیاں، قابض حکومت کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرتی ہیں۔پانچ سال سے جاری طالبان رجیم کی یہ قدغنیں اور بے بنیاد پروپیگنڈہ، دراصل اپنی پرتشدد ریاستی پالیسیوں کو چھپانے کے لیے ایک حربہ ہیں۔