ڈیجیٹل ترقی ، جرائم کی نئی دنیا

محمد ندیم بھٹی
 پاکستان میں سائبر کرائم اور آن لائن فراڈ اب محض ایک تکنیکی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک وسیع پیمانے پر سماجی، اخلاقی اور معاشی بحران بن چکا ھے۔ موبائل فون، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سروسز نے جہاں زندگی کے کئی مسائل حل کیے ھیں، وہیں جرائم پیشہ عناصر کے لیے بھی نئے مواقع فراہم کیے ھیں۔ آج کے معاشرے میں کوئی بھی طبقہ سائبر فراڈ سے محفوظ نہیں، چاہے وہ طالب علم ھو، گھریلو خاتون ھو، تاجر ھو یا سرکاری ملازم۔
پاکستان میں سائبر فراڈ کی سب سے عام شکل جعلی فون کالز اور میسجز کی صورت میں سامنے آتی ھے۔ خود کو بینک افسر، نادرا یا ایف بی آر کا نمائندہ ظاہر کر کے شہریوں سے او ٹی پی، پن کوڈ اور دیگر ذاتی معلومات حاصل کی جاتی ھیں۔ بعض اوقات کہا جاتا ھے کہ آپ کا اکاؤنٹ بلاک ھو رہا ھے، کبھی انعام جیتنے کا جھانسہ دیا جاتا ھے اور کبھی کسی قانونی کارروائی کا خوف دکھایا جاتا ھے۔ چند لمحوں کی غفلت یا ایک غلطی شہری کی پوری جمع پونجی ہاتھ سے نکال دیتی ھے۔
سوشل میڈیا نے جہاں اظہارِ رائے اور تفریح کے مواقع فراہم کیے ھیں، وہیں فراڈ کرنے والوں کے لیے یہ سب سے آسان ہتھیار بھی بن گیا ھے۔ فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر فیک آئی ڈیز بنا کر لوگوں کو جذباتی طور پر اعتماد میں لیا جاتا ھے۔ خوبصورت تصاویر، جذباتی گفتگو اور مصنوعی ہمدردی کے ذریعے متاثرہ شخص کو نفسیاتی طور پر کمزور کیا جاتا ھے۔ بعد ازاں یہی اعتماد بلیک میلنگ، رقم کے مطالبے اور ذاتی ویڈیوز یا تصاویر کے غلط استعمال میں تبدیل ھو جاتا ھے۔ پاکستان میں ایسے متعدد کیسز سامنے آئے ھیں جن میں متاثرہ افراد شدید ذہنی دباؤ کے باعث انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ھو گئے۔
آن لائن خرید و فروخت کے نام پر فراڈ بھی ایک عام مسئلہ بن چکا ھے۔ سستے موبائل فون، گاڑیاں، پلاٹس یا بیرونِ ملک نوکریوں کے اشتہارات دے کر شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ھیں، مگر نہ سامان ملتا ھے اور نہ ہی کوئی رابطہ باقی رہتا ھے۔ کرپٹو کرنسی اور آن لائن سرمایہ کاری کے نام پر چلنے والی جعلی اسکیمیں بھی عوام کے لیے خطرہ بن گئی ھیں۔ زیادہ منافع کے لالچ میں لوگ بغیر تصدیق اپنی رقم نامعلوم پلیٹ فارمز کے حوالے کر دیتے ھیں، جس کا انجام مکمل معاشی نقصان کی صورت میں نکلتا ھے۔
خواتین اور بزرگ افراد سائبر فراڈ کا سب سے آسان ہدف سمجھے جاتے ھیں۔ گھریلو خواتین کو آن لائن بزنس یا پارٹ ٹائم کام کے نام پر لوٹا جاتا ھے، جبکہ بزرگ شہریوں کو پنشن، بینک اپ ڈیٹ یا انعامی اسکیموں کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ھے۔ افسوسناک حقیقت یہ ھے کہ اکثر لوگ سائبر جرائم کو سنجیدگی سے نہیں لیتے، جس کا فائدہ فراڈ کرنے والے اٹھاتے ھیں اور وہ بے خوف ھو کر اپنے نیٹ ورک کو بڑھاتے ھیں۔

قانونی اعتبار سے پاکستان میں Prevention of Electronic Crimes Act 2016 (PECA) موجود ھے، جس کے تحت سائبر فراڈ، ہراسانی، شناخت کی چوری اور بلیک میلنگ قابلِ سزا جرائم ھیں۔ ایف آئی اے کا سائبر کرائم ونگ ان کیسز کی تحقیقات کا ذمہ دار ھے، مگر بڑھتے ہوئے جرائم کے مقابلے میں وسائل، تربیت اور تکنیکی صلاحیت محدود نظر آتی ھے۔ متاثرہ افراد بھی بدنامی، وقت کے ضیاع اور پیچیدہ قانونی کارروائی کے خوف سے شکایات درج نہیں کراتے، جس سے مجرموں کے حوصلے مزید بڑھتے ھیں۔
یہ بھی حقیقت ھے کہ سائبر فراڈ صرف ٹیکنالوجی کا مسئلہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں کی بھی عکاسی کرتا ھے۔ جلدی امیر بننے کی خواہش، بغیر تصدیق اعتماد کرنا اور لالچ کے باعث لوگ ان جرائم کا آسان شکار بن جاتے ھیں۔ سوشل میڈیا پر غیر ضروری دوستیوں اور ذاتی معلومات کی نمائش بھی مسائل کو جنم دیتی ھے۔
میڈیا کا کردار اس حوالے سے نہایت اہم ھے۔ اکثر اوقات سائبر کرائم کے واقعات کو سنسنی خیز انداز میں پیش کیا جاتا ھے، مگر عوامی آگاہی پر توجہ نہیں دی جاتی۔ ضرورت اس امر کی ھے کہ میڈیا شہریوں کو یہ باور کرائے کہ کوئی بھی ادارہ فون پر پن کوڈ، او ٹی پی یا ذاتی معلومات طلب نہیں کرتا۔ ہر لنک، ہر آفر اور ہر اشتہار قابلِ اعتماد نہیں ھوتا۔
ریاستی سطح پر بھی مربوط حکمت عملی کی ضرورت ھے۔ اسکولوں اور کالجوں کے نصاب میں ڈیجیٹل سیکیورٹی اور سائبر آگاہی کو شامل کیا جانا چاہیے۔ بینکوں اور ڈیجیٹل سروس فراہم کرنے والوں کو بھی اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے صارفین کو آگاہی پیغامات دینا چاہیے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید ٹیکنالوجی، تربیت اور افرادی قوت فراہم کیے بغیر سائبر کرائم پر قابو پانا ممکن نہیں۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ھو گا کہ سائبر فراڈ دراصل ہمارے مجموعی اخلاقی زوال کی ایک شکل ھے۔ جب معاشرے میں محنت کے بجائے شارٹ کٹ کو ترجیح دی جائے، جب سچ کے بجائے فریب کو کامیابی سمجھا جائے، تو ایسے جرائم پنپتے ھیں۔ سائبر کرائم کے خلاف جنگ صرف ایف آئی اے یا کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ ایک اجتماعی جدوجہد ھے۔ جب تک ریاست، ادارے، میڈیا اور شہری مل کر شعور، احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کریں گے، ڈیجیٹل ترقی ہمارے لیے سہولت کے بجائے مسلسل خوف اور نقصان کا سبب بنی رھے گی۔