پشاور ہائیکورٹ کا فیصل جاوید کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

پشاور ہائیکورٹ کا فیصل جاوید کو گرفتار نہ کرنے کا حکم

پشاور ہائی کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر فیصل جاوید کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

 جسٹس ایس ایم عتیق شاہ اور جسٹس فہیم کی سربراہی میں ہونے والی سماعت میں فیصل جاوید کو ایک اہم راحت ملتے ہوئے عدالت نے انہیں درج مقدمات میں گرفتاری سے حفاظتی ضمانت فراہم کی۔ عدالت نے 14 دنوں میں ان پر درج تمام مقدمات کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم بھی دیا۔اس موقع پر، جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے فیصل جاوید سے سوال کیا کہ وہ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں، جس پر فیصل جاوید نے جواب دیا کہ ان کا تعلق صوابی سے ہے۔ اس کے بعد، جسٹس عتیق شاہ نے نوجوانوں کے مسائل پر بات کی اور کہا کہ صوبے کے 70 فیصد نوجوان بے روزگار ہیں اور ان کے لئے ایک مؤثر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نوجوانوں کے مسائل حل کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ بھارت آئی ٹی کے شعبے میں بہت آگے جا رہا ہے، جبکہ پاکستان میں نوجوانوں کو اسکل ڈویلپمنٹ کی ضرورت ہے۔

فیصل جاوید نے اس بات کو تسلیم کیا اور کہا کہ نوجوانوں کے لئے اقدامات بہت ضروری ہیں، اور ان مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے فیصل جاوید کو ہدایت کی کہ وہ نوجوانوں کے مسائل کے حل کے لیے مل بیٹھ کر کام کریں۔مقدمے کی سماعت کے دوران وکیل درخواست گزار عالم خان ادینزئی ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ فیصل جاوید کے خلاف مقدمات درج ہیں، لیکن ان کی تفصیلات ابھی تک فراہم نہیں کی گئیں۔ اس پر عدالت نے فیصل جاوید کو کسی بھی مقدمے میں گرفتار نہ کرنے اور 14 دن میں مقدمات کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا۔