پشاور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فیصل جاوید کو طیارے سے آف لوڈ کرنے کے خلاف درخواست پر ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
یہ درخواست فیصل جاوید کے طیارے سے آف لوڈ کرنے کے خلاف دائر کی گئی تھی، جس پر پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس ثابت خان نے سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ فیصل جاوید کو عدالتی احکامات کے باوجود آف لوڈ کرنا توہین عدالت کے مترادف ہے۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ایئرپورٹ پر ایف آئی اے حکام کو عدالت کا حکم دکھایا گیا لیکن پھر بھی فیصل جاوید کو جانے نہیں دیا گیا۔اس کے بعد عدالت نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر کو کل ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
فیصل جاوید نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تحریک انصاف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور آئین کے تحت ہمیں پرامن احتجاج کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم سب نے متحد ہو کر تحریک چلائی تو بانی پی ٹی آئی بھی باہر آئیں گے۔ فیصل جاوید نے مزید کہا کہ وہ عمرہ کے لیے جا رہے تھے اور ایئرپورٹ پر انہیں آف لوڈ کیا گیا، جب کہ عدالت کا حکم ماننے سے انکار کر کے انہیں روکا گیا۔