پی ٹی آئی کے سینیئر رہنما شوکت یوسف زئی نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کو این آر او کا رنگ دینا افسوسناک ہے، اور اس بات کا امکان ہے کہ حکومت کی جانب سے سنجیدگی نہ دکھانے پر مذاکرات کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
انہوں نے وفاقی وزراء کے بیانات پر بھی شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیانات غیر ضروری اور بے سروپا ہیں۔شوکت یوسف زئی نے وضاحت کی کہ پاکستان تحریک انصاف ملک کو معاشی اور سیاسی بحران سے نکالنے کے لیے مذاکرات کرنے کی خواہش رکھتی ہے، مگر اب تک عمران خان کی ملاقات کے لیے مذاکراتی کمیٹی سے کسی بھی رابطے کی کوشش نہیں کی گئی، جس سے حکومت کی بدنیتی ظاہر ہو رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی مذاکراتی ٹیم جب چاہے اپنے لیڈر سے مشاورت کر سکتی ہے، مگر یہ حق پی ٹی آئی کو نہیں دیا جا رہا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوئے تو پی ٹی آئی سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز کر سکتی ہے جس سے حکومت کے لیے مزید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔شوکت یوسف زئی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عدالتی نظام کو مذاکرات سے دور رکھے، اور عمران خان کی جانب سے کسی بھی این آر او کو قبول نہ کرنے کی تصدیق کی، کہ وہ نہ تو بنی گالہ واپس جائیں گے اور نہ ہی ملک سے باہر، بلکہ عدالتی نظام کے ذریعے اپنی بے گناہی ثابت کر کے باہر آئیں گے۔