غلام علی جاوید
سید فرہاد علی شاہ شاہینوں کے شہر ضلع سرگودھا کے ایک چھوٹے سے گائوں میں 1978ء میں پیدا ہوئے ۔ معزز خاندان کا فرد ہونے کے ناطے تربیت اچھی ہوئی ۔ ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور کا رخ کیا اور 2002ء میں پنجاب یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ سلطنت ِقانون میںپوری جوانمردی سے اترے اوردیکھتے ہی دیکھتے کامیابیوںکی فضائوں میں اڑنے لگے ، لوگ جاننے لگے، راہیں کھلنے لگیں، مشکلیں آسان ہونے لگیں، قانون بولنے لگا ، فیصلے آنے لگے۔آپ نہ صرف ایشیا کی سب سے بڑی بار، لاہور بار کے کم عمر جنرل سیکرٹری بنے بلکہ سب سے کم عمر پراسیکیوٹر جنرل پنجاب ہونے کا اعزاز بھی سمیٹ لیا۔دراز قد خوب صورت اور پرکشش شخصیت کے مالک ہیں۔ جب چلتے ہیں تو شخصیت سے رعب جھلکتا ہے۔بولتے ہیں تو منہ سے پھول جھڑتے ہیں ۔ عدالت میں بحث کرتے ہیں یا دلائل دیتے ہیں تو وکلا سنتے ہیں ۔فوجداری وکالت میں پورے پنجاب میں آپ کا طوطی بولتا ہے۔
دسمبر2023ء میں بطور پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عہدہ سنبھالا اور فرائض منصبی کی طرف نظر دوڑائی، احساس ذمہ داری کا لباس پہنا، توکل خدا کو زادِ راہ بنایا، برق رفتاری کے گھوڑے پر سوار ہوئے اور منزل کی طرف چل نکلے ۔تھوڑی ہی مسافت کے بعد لوگ ملنے لگے اور کارواں بننے لگاجس کی بدولت پراسیکیوشن کا سورج پوری آب و تاب سے چمکنے لگا۔آپ دور اندیش، کم گو، ذمہ دار، قائدانہ صلاحیتوں اور مروّت سے بھری شخصیت کے مالک ہیں۔
؎ نگہ بلند سخن دلنواز جاں پر سوز یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لئے
اپنی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی پراسیکیوشن میں موجود کمزوریوں کی اصلاح کی ٹھان لی اورپنجاب بھر میں اچانک دورے کرنا شروع کردیے جس کی بدولت افسروں اور عملے کی نہ صرف حاضری یقینی بنی بلکہ طبیعت میں رچی بسی مصنوعی سستی بھی دور ہوئی۔ پراسیکیوشن کے کام میں مزید بہتری آئی۔غیر ضروی چھٹیوں میں تعطل آگیا ۔کرپشن سے پاک محکمے کی پالیسی اپنائی۔ ٹیم ورک کو ترجیح دی ۔محکمے کے سرپرست ہونے کی بدولت افسران و ملازمیں کے سر پر دستِ شفقت رکھا اور اصلاحات کا سلسلہ شروع کیا جس سے ملازمین میں اطمینان کی فضاقائم ہوئی۔پراسیکیوشن کو بہترین اور مثالی بنانے کے لئے شب و روز ایک کر دیااور حکومتی بالاخانوں تک ملازمین کے مسائل کی آواز پہنچائی۔ملازمین اور پراسیکیوشن کے محکمے کی بہتری کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی فہرست کافی طویل ہے مگر چند کا ذکر کئے دیتے ہیں:
سید فرہاد علی شاہ کا نظریہ رہا ہے کہ عدلیہ ، پراسیکیوشن، پولیس اور بار کے درمیان اعتماد اور ہم آہنگی کی فضا قائم کی جائے جس کے اثرات آنا بھی شروع ہو گئے ہیں ۔ پولیس اور پراسیکیوشن میں ہم آہنگی ہو چکی ہے۔ پراسیکیوٹر جنرل کے حکم کے مطابق پنجاب بھر کے پراسیکیوٹرز نے لائن آف انکوائریز جاری کرنا شروع کر دی ہیں جس کی وجہ سے پولیس کی طرف سے تفتیش کے تاخیری مرحلے کافی حدتک کم ہو چکے ہیں۔ پراسیکیوشن کی طرف سے پولیس کی قانونی معاونت کا چراغ روشن ہو چکا ہے ۔پنجاب بھر میں وکلا اور پراسیکیوٹرز پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لا رہے ہیں۔جوڈیشنری پراسیکیوشن مابین باہمی تعاون فروغ پا چکا ہے۔
سید فرہاد علی شاہ نے سادات قبیلے کی روایات کو جلا بخشنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ خاندانی روایات و اطوارکے مکمل پاسدار ٹھہرے ہیں ۔انسانیت کو ترجیح دی ہے اورامیر و غریب میں فرق نہیں رکھا۔ سارا سارا دن سائلین کی حاجت روائی کرنے میں گزر جاتا ہے ۔کوئی افسر ہو یا کوئی عملے کا فرد یا کوئی سائل ہو سب کے لئے نہ صرف دفتر کے دروازے کھلے رکھے ہیںبلکہ دل کے دروازے بھی وا کئے ہیں ۔سائلین کا تانتا بندھا رہتا ہے اور سائلین دعائوں کے ساتھ رخصت ہوتے نظر آتے ہیں ۔ جہاں جہاں ضرورت محسوس ہوئی ہے محکمے کی بہتری اور انصاف کی جلد فراہمی کے لئے گائیڈ لائنز جاری کی ہیں، نوٹسز لیے ہیں اور دورے کیے ہیں۔جیسے شاہ صاحب کی اپنی طبیعت میں رکھ رکھائو ، لگن، دل جمعی، ایمانداری ، فرض شناسی ، خدمت خلق کے جذبے کا عنصر پایا جاتا ہے وہ ویسے ہی اپنے ملازمین میں ایسے جذبے کو اجاگر کرتے نظر آتے ہیں۔انھوں نے محسوس کیا کہ ملازمین میں محکمانہ ترقیوں کی رفتار کم ہے تو حقیقی سر پرستی کا قلم اٹھایا اور محکمانہ ترقیوں کا سلسلہ شروع کیا ۔ افسران و ملازمین کے لئے ٹریننگ کورسز کا اجراء کروایا۔سب سے پہلے صوبہ پنجاب میں پتنگ بازی کے خلاف آگاہی مہم کا آغاز کیا جس کو حکومتی اداروں نے سراہا ، دیکھنے والوں نے دیکھا، لکھنے والوں نے لکھا۔ محکمانہ بہتری کے لئے پراسیکیوٹرز میں میجرایکٹس تقسیم کئے گئے ، محکمانہ شناختی کارڈز بنوائے گئے، ملازمین کے لئے جم خانہ میںممبر شپ کی لئے باقاعدہ کوششیں کی گئیں ، سرکاری رہائش کے لئے خاطر خواہ اقدامات کئے گئے، سالانہ اعزازیہ تقسیم کیا گیا، انصاف کی جلد فراہمی کے پودے کی مکمل آبیاری کی گئی، غیر جانبدار پراسیکیوشن کاعلم بلند کیا گیا،پراسیکیوٹرزاور عملے کے وقار کو مزید تقویت بخشی گئی، فسیلی ٹیشن سنٹرز قائم کئے گئے۔ملازمین کے بچوں کے لئے فیسوں میں رعایت دلوائی گئی، ڈے کیئر سنٹرز قائم کیے گئے، ٹائم سکیل پروموشن کی سمری بھیجی گئی۔ پراسیکیوشن سے تقریباً 250سے زائد افسران کو سول جج یا ایڈیشنل سیشن جج بننے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔
؎ یاد کرتا ہے زمانہ انھی انسانوں کو روک لیتے ہیں جو بڑھتے ہوئے طوفانوں کو
سننے میں آیا ہے کہ پراسیکیوٹر جنرل پنجاب نے محکمے کی بہتری، افسران و عملے کی پرسکون زندگی کے لئے مختلف منصوبہ جات بنا رکھے ہیں جن پر تیزی سے کام جاری ہے جیسے نئے پراسکیوٹرز کی تعیناتی ،عملے کی بھرتی ،آن لائن کمپیوٹر لائبریری، نئی گاڑیوں کی خریداری، ہوم ڈسٹرکٹ پالیسی، ہائوس رینٹ میں اضافہ،سرکاری رہائش یا ہوسٹل کا انتظام وغیرہ۔معلوم نہیں سلسلہ اصلاحات کہوں یاسلسلہ عنایات ،بہر حال یہ ابھی رکا نہیں ہے ۔ شاہ صاحب ابھی منزل کی طرف رواں دواں ہیں ، مشکلیں ہٹتی جا رہی ہیں، دیواریں گرتی جا رہی ہیں۔ ہمارے ہر دلعزیز ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل پنجاب شاہد محمود وڑائچ صاحب نے پراسیکیوٹر جنرل صاحب کی کوششوں کے حوالے سے کہیں لکھا تھاکہ ’’بات چل نکلی ہے اب جانے کہاں تک پہنچے‘‘۔