سید علی خامنہ ای کی شہادت نے منظر بدل دیا

 تصور حسین شہزاد
ایران پر امریکہ و اسرائیل کی مشترکہ جارحیت کے جواب میں اب تک ایران کی پالیسی اور حکمت عملی مکمل طور پر کامیاب رہی ہے۔ یہ نقصان اپنی جگہ، کہ ایران کی اعلیٰ قیادت اس جنگ میں شہید ہوئی، لیکن ایران کی حکمت عملی نے دنیا کو حیران کر دیا۔ رہبرِمعظم آیت اللہ سید علی خامنہ، 82، 83 سال کے بزرگ تھے، نحیف جسم کیساتھ انہوں نے دنیا کی باطل قوتوں کو للکارا، اور ایسا للکارا کہ دشمن کی نیندیں حرام کر دیں۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت سے قبل انہیں درخواست کی گئی کہ وہ ایک محفوظ بنکر میں منتقل ہو جائیں، لیکن وقت کے حسین کا جواب واقعی کربلائی تھا، بولے، کیا ایران کے تمام لوگ محفوظ بنکروں میں ہیں؟ جواب ملا، نہیں، تو، آیت اللہ کا جواب تھا کہ ’’وہ کسی بنکر میں نہیں جائیں گے۔  ایرانی قوم اور فوج، دونوں بنکروں میں نہیں، تو وہ کیسے ایک محفوظ بنکر میں بیٹھ کر اگلے محاذوں پر لڑنے والے فوجیوں کو کہیں گے کہ اپنے حوصلے بلند رکھو‘‘۔ آیت اللہ خامنہ کو یقین تھا کہ یہ ان کی شہادت کا وقت ہے۔ اور انہوں نے اپنی حکمت علمی سے جان قربان کرکے ایران کو بچا لیا بلکہ اسلام کو بچا لیا۔ دشمن یہ طے کر چکا تھا کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو شہید کرنا ہے، اس کا ہدف بھی آیت اللہ سید علی خامنہ ای ہی تھے، مگر دشمن ان کیساتھ ایرانی قوم، املاک، توانائی اور فوجی تنصیبات کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔ ان تمام پوائنٹس کو بچانے کیلئے آیت اللہ خامنہ نے اپنی جان دیکر دشمن کی توجہ تقسیم کر دی۔ اتنی بڑی قیادت کی شہادت نے خود امریکہ و اسرائیل کو بھی پریشان کر دیا۔ ایران کے شدید ردعمل کے باعث انہیں اپنی فکر پڑ گئی اور وہ اپنے حملے روک کر دفاعی پوزیشن میں چلے گئے۔ ایران نے ہمسایہ عرب ممالک میں تمام امریکی اڈے تباہ کر دیئے، تل ابیب میں مکمل تباہی کے مناظر ہیں۔ اسرائیلی حکومت کی سخت مانیٹری پالیسی کے باوجود اسرائیلی شہروں میں تباہی کے مناظر دنیا نے دیکھے، ہزاروں یہودی اسرائیل سے فرار ہو چکے ہیں، سینکڑوں ابھی بھی سامان باندھے اسرائیل سے بھاگنے کیلئے تیار بیٹھے ہیں۔ خود امریکہ کے اندر احتجاج نے امریکی حکومت کو یوٹرن لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے ’’نو کنگ‘‘ مظاہروں نے تو وائٹ ہاؤس کی بنیادیں ہلا دی ہیں۔ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، امریکی واسرائیلی جارحیت کا جو بھی ردعمل آرہا ہے۔ یہ آیت اللہ سید علی خامنہ کی کامیاب حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ اسرائیل میں نتین یاہو اور امریکہ میں ٹرمپ کی تبدیلی کی باتیں ہونا شروع ہوگئی ہیں۔ وہ دشمن جو تہران میں رجیم چینج کیلئے آیا تھا، وہ یہاں تو کامیاب نہیں ہو سکا، البتہ ایرانی حکمت عملی کے باعث واشنگٹن اور تل ابیب میں رجیم چینج کیلئے آوازیں اْٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ ایران نے رہبرمعظم کی ہی ہدایت پر آبنائے ہرمز کو بند کرکے پوری دنیا کی سانیسں روک دی ہے۔ سوا مہینے سے زائد ہو گیا ہے، اسرائیل و امریکہ کامیاب نہیں ہو سکے۔ عرب ملکوں میں امریکی اڈے ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔ قیمتی جہاز، دفاعی نظام اور ڈرونز تباہ ہو چکے ہیں۔ جبکہ ایران میں ہونیوالے حملوں سے ذرا بھی فرق نہیں پڑا۔ ایران میں معمولات زندگی اپنی روٹین کے مطابق چل رہے ہیں۔ بازار، سکول، دفاتر سب کھلے ہیں۔ اس کے برعکس اسرائیل میں شہری خوفزدہ ہو کر بنکروں میں چھپنے پر مجبور ہیں۔ ہر شہر میں سائرن بج رہے ہیں۔ کاروبارِ زندگی معطل ہے۔ اسرائیل وزیراعظم خود بھی رْوپوش ہیں۔ فتح ایران کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو شہید کرکے دشمن یہ سمجھا تھا کہ رجیم چینج ہو جائے گا، لیکن دشمن کی یہ پالیسی بْری طرح برباد ہو گئی، ایک بوڑھے خامنہ ای کی جگہ ایک جوان خامنہ ای آگیا۔ وہ عوام جو حکومت کیخلاف تہران میں احتجاجی  مظاہرے کر رہے تھے، ان کی حمایت بھی بدل گئی اور وہ حکومت کی مخالفت کی بجائے، حکومت کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ یہاں تک کہ چند ایرانی جو امریکہ میں ایران پر حملوں پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے، ان کے اپنے عزیز واقارب کے گھروں پر حملے ہوئے تو وہ بھی امریکہ کی حمایت سے دستبردار ہو گئے۔ یہ تمام آیت اللہ خامنہ ای کی کامیاب حکمت عملی تھی، جس کی بدولت امریکہ و اسرائیل کو نہ صرف جنگی بلکہ دیگر کئی محاذ پر بھی شکست ہوئی۔ خطے میں فرقہ واریت کا خاتمہ ہوا، شیعہ سنی ایک پیج پر آگئے۔ فرقوں سے نکل کر ایک اْمت کی بات ہونے لگی، یہ امریکہ کی بہت بڑی شکست ہے۔ رہبر شہید کی جانب سے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی حمایت نے انہیں اْمت مسلمہ کا مقبول لیڈر بنا دیا۔ اس وقت عربوں کیساتھ ساتھ مسلمانوں کی95 فیصد آبادی رہبر معظم کو اْمت مسلمہ کا ’’حقیقی لیڈر‘‘ مانتی ہے۔ ایران اس جنگ کے بعد اْمت مسلمہ کے لیڈر کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ایران نے اپنی کامیاب حکمت عملی سے امریکہ کے سپر پاور ہونے کے زعم کو بھی خاک میں ملا دیا ہے۔ ایران کی آئندہ کی پالیسی خطے سے ڈالر کو دیس نکالا دینا ہے۔ بہت جلد پیٹرو ڈالر معاہدہ بھی خلیج فارس میں غرق کر دیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب بھی بند ہونے جا رہا ہے۔ جس سے یہ نئی وجود میں آنیوالی سمندری چیک پوسٹیں ڈالر کو کاغذ کے ٹکڑے میں بدل دیں گی۔ آیت اللہ سید علی خامنہ شہید کی حکمت علمی نے ایران کو ایک عظیم قوت کے طور پر منوایا ہے۔ خطے سے امریکہ نکلنے پر مجبور ہو گیا ہے۔ اس جنگ کا خمیازہ بھی ٹرمپ نے عربوں سے وصول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ کے اس اقدام سے عرب بھی اب امریکہ سے نجات کیلئے ایران کی طرف دیکھیں گے۔ ایران نے حاج قاسم سلیمانی کی شہادت کے وقت ہی کہہ دیا تھا کہ خطے میں اب امریکہ کیلئے کوئی جگہ نہیں، اور آج ایرانیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ امریکہ اب مزید مشرق وسطیٰ میں نہیں رہے گا۔ ایک بزرگ لیڈر نے شاندار حکمت عملی کیساتھ امریکہ و اسرائیل کو ایسی عبرتناک شکست دیدی ہے، جس کو وہ ہمیشہ یاد رکھیں گے، اگر وہ زندہ رہے تو۔