انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی ذاتی معالجین سے علاج کی درخواست مسترد کر دی

انسداد دہشت گردی عدالت نے عمران خان کی ذاتی معالجین سے علاج کی درخواست مسترد کر دی

راولپنڈی: انسداد دہشت گردی عدالت نے سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کی درخواست مسترد کر دی، جس میں انہوں نے اپنے ذاتی معالجین سے طبی معائنہ کروانے کی اجازت مانگی تھی۔

راولپنڈی میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج سید امجد علی شاہ نے درخواست پر سماعت مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عمران خان کا ذاتی معالجین ڈاکٹر عاصم، ڈاکٹر خرم اور ڈاکٹر ثمینہ سے معائنہ آئینی، قانونی اور اخلاقی حق ہے، جیسا کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی ذاتی معالج دستیاب تھے۔درخواست میں دلائل دیے گئے کہ ذاتی معالجین سے طبی معائنہ کروانا ایک بنیادی حق ہے، اور راولپنڈی جیل رول 795 کے تحت جیل انتظامیہ کسی بھی میڈیکل چیک اپ سے متعلق فیملی کو آگاہ کرنے کی پابند ہے۔

سماعت کے دوران وکیل صفائی فیصل ملک نے کہا کہ عمران خان سابق وزیراعظم اور قومی ہیرو ہیں، لہٰذا یہ ان کا بنیادی حق ہے کہ وہ ذاتی معالجین سے علاج کروائیں۔ وکیل کے مطابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع نہیں کروائی، البتہ بتایا کہ عمران خان کا علاج جاری ہے۔بعد ازاں جج امجد شاہ نے فیصلہ سناتے ہوئے عمران خان کی ذاتی معالجین سے علاج کی درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ جیل رولز کے مطابق ملزم عمران خان کا طبی معائنہ اور علاج معالجہ جاری ہے، اور عدالت کی نظر میں جیل انتظامیہ اس حوالے سے مناسب اقدامات کر رہی ہے۔