تہران:ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے مسائل واشنگٹن سے بات چیت کرنے سے حل نہیں ہوں گے۔
ایران کا سخت ردعمل
ایک بیان میں آیت اللّٰہ خامنہ ای نے کہا کہ ایران نے ماضی میں امریکا کو رعایتیں دیں، لیکن اس کے باوجود امریکا نے معاہدہ توڑ دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکا نے ایران کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا، تو ایران بھی امریکا کی سلامتی کو خطرے میں ڈالے گا۔
امریکا کی نئی پابندیاں
یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف پہلی اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق، امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے تیل کے نیٹ ورک کو نشانہ بنایا ہے اور پہلے سے پابندیوں کی زد میں آنے والی کمپنیوں سے منسلک افراد، جہازوں اور فرموں پر مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کی ہیں۔
امریکی موقف
اس حوالے سے امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران اپنی تیل کی آمدنی کو جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ نے مزید کہا کہ ایران دہشت گرد گروہوں کی مالی مدد کے لیے تیل سے حاصل شدہ رقم کا استعمال کرتا ہے، اور امریکا غیر قانونی سرگرمیوں کی فنڈنگ روکنے کے لیے سخت اقدامات جاری رکھے گا۔
پس منظر
یہ پابندیاں ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب عالمی سطح پر ایران کے جوہری پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے کردار پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات 2018 میں اس وقت مزید کشیدہ ہوگئے تھے جب ٹرمپ انتظامیہ نے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔
نتائج اور اثرات
ایران پر نئی امریکی پابندیوں سے اس کی معیشت مزید دباؤ کا شکار ہوسکتی ہے، جبکہ خطے میں کشیدگی میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ دوسری جانب، ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل کے اشارے مل رہے ہیں، جو مستقبل میں مزید جغرافیائی سیاسی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔