پاکستان کی فلسطین کے حوالے سے پوزیشن واضح ہے‘ہمارے چین اور امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں‘صدر کے دورہ میں پاکستان نے ون چائنہ اصول پر اپنی حمایت کی تجدید کی
عالمی برادری جنگ بندی معاہدے پر عمل کرائے‘بلاول بھٹو کے دورہ امریکہ اور ناشتے پر امریکی صدر سے ملاقات کا علم نہیں، اس بارے میں ان ِ کی پارٹی بتاسکتی ہے:ترجمان
اسلام آباد (آئی این پی )پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ سے متعلق بیان کو ناانصافی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے پاکستان کا مسئلہ فلسطین پر موقف 1947 سے واضح ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑ ے ہیں،غزہ میں جنگ بندی معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کو بند کرانے کے لیے عالمی برداری موثر اقدامات کرے۔ان خیالات کااظہار دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے ہفتہ وار پر یس بریفنگ کے دوران کیا ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے سے سوالات پر پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ فلسطین اور فلسطینیوں کو پاکستان نے ہمیشہ سپورٹ کیا، پاکستان کی فلسطین کے حوالے سے پوزیشن واضح ہے، ہم فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں‘ پاکستان اسرائیل کی جانب سے سیز فائر معاہدے خلاف ورزی کی مذمت کرتا ہے، امدادی کاموں کو روکنا معاہدے کی خلاف ورزی ہے ،عالمی برادری اسرائیلی مظالم پر خاموشی توڑے اور سیز فائز معاہدے پر عمل کرائے۔شفقت علی خان نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری چین کے دورے پر ہیں، انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ اور چینی وزیر اعظم لی کیانگ سے بھی ملاقات کی ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہاکہ پاکستان نے ون چائنہ اصول پر اپنی حمایت کی تجدید کی ہے‘ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کا امریکا کا دورہ دفتر خارجہ کے ذریعے طے نہیں ہوا، ہمارے چین اور امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کے دورہ امریکہ کا علم نہیں، بلاول بھٹو کی ناشتہ پر امریکی صدر سے ملاقات کا علم نہیں، ان کی ملاقاتوں کے بارے پارٹی بتا سکتی ہے، فارن آفس کے شیڈول میں نہیں ہے۔ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی واپسی غیر قانونی نہیں ہے، ہم افغانوں کی تیسرے ملک منتقلی کے حوالے متعلقہ ممالک سے رابطے میں ہیں۔