شام کے مختلف علاقوں میں باغیوں کی پیش قدمی جاری ہے اور حالیہ رپورٹس کے مطابق باغیوں نے پانچویں شہر درعا پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایک ہفتے کے دوران یہ پانچواں شہر ہے جس پر باغیوں نے قبضہ کیا ہے، اور ان کے اگلے اہداف میں دیگر اہم شہر شامل ہیں۔ امریکی اخبار کے مطابق ایران کی قدس فورس کے افسران نے علاقے سے انخلاء شروع کر دیا ہے، جب کہ روسی افواج نے بھی طرطوس پورٹ سے انخلاء شروع کر دیا ہے۔ ان دونوں ممالک کا انخلاء شام میں حکومت کے ساتھ ان کے اتحاد کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔شام کے شمالی شہر حلب اور حماۃ میں بھی باغیوں نے قبضہ کر لیا ہے، اور السویدا شہر میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔ ان علاقوں میں سرکاری افواج اور باغیوں کے درمیان جنگ شدت اختیار کر گئی ہے، جس سے وہاں کے مقامی شہریوں کی زندگی اور امن کی صورتحال مزید ابتر ہو گئی ہے۔ باغیوں کے اس پیش قدمی سے شامی حکومت کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ مسلح گروپوں کا اصل مقصد دمشق کو کنٹرول کرنا ہے، اور ان کے مطابق شام میں باغیوں کی پیش قدمی میں مشکلات نہیں آئیں گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شامی صدر بشارالاسد کو ملاقات کی دعوت دی تھی، مگر شامی صدر نے اس سے انکار کرتے ہوئے ملاقات سے پہلے ترکی کے زیرِ کنٹرول شمالی علاقوں سے ترک فوج کا انخلاء کرنے کی ضمانت مانگی ہے۔اس صورتحال میں ترکی، ایران اور روس کے وزرائے خارجہ آج دوحہ میں ملاقات کریں گے، جہاں شام میں باغیوں کی پیش قدمی اور اس سے متعلقہ مسائل پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس ملاقات میں تینوں ممالک کی جانب سے ایک مشترکہ موقف اختیار کرنے کی کوشش کی جائے گی، تاکہ شام کی موجودہ بحران کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔