وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے چھوٹے اور میڈیم کاروبار کے فروغ کے لیے دو اہم معاشی سکیموں کا اعلان کیا ہے۔
ان سکیموں کا مقصد صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کو بڑھانا اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے۔
1. کاروبار کارڈ سکیم:
وزیر اعلیٰ پنجاب نے "کاروبار کارڈ سکیم" متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت چھوٹے کاروباروں کو قرضے دیے جائیں گے۔ اس سکیم کے تحت چھوٹے کاروباروں کو ایک لاکھ روپے سے لے کر دس لاکھ روپے تک قرض فراہم کیا جائے گا۔
2. چیف منسٹر آسان کاروبار فنانسنگ سکیم:
اس کے علاوہ "چیف منسٹر آسان کاروبار فنانسنگ سکیم" بھی شروع کی جائے گی، جس کے تحت تین کروڑ روپے تک قرض فراہم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سکیموں کی تفصیلات:
چھوٹے اور میڈیم کاروباروں کے لیے قرضے: وزیر اعلیٰ مریم نواز نے سمال اور میڈیم کاروباروں کے لیے قرضوں کی فراہمی کی تجویز دی ہے جس میں بلاسود قرضے شامل ہیں۔قرض کی پہلی قسط: قرض کی پہلی قسط ملنے کے بعد تین ماہ کا گریس پریڈ فراہم کیا جائے گا، جس کے دوران کاروباروں کو ادائیگی میں نرمی فراہم کی جائے گی۔قرض کی مدت: "چیف منسٹر آسان کاروبار فنانسنگ سکیم" کے تحت قرض پانچ سال تک ادا کرنا ہوگا۔کاروبار کارڈ کی استعمال کی حدود: اس سکیم میں ریسٹورنٹس سمیت کچھ مخصوص ایریاز میں ادائیگی کے لیے کاروبار کارڈ استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
3. مخصوص سیکٹرز کے لیے قرضوں کی ترجیحی فراہمی:
وزیر اعلیٰ نے تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مخصوص تجارتی سیکٹرز پر ترجیحی بنیادوں پر قرضے دینے کی تجویز کا بھی جائزہ لیا ہے۔
4. صنعتی زونز کی تشکیل:
بڑے شہروں میں سمال اور میڈیم انڈسٹری کے لیے الگ زونز مختص کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے تاکہ مخصوص کاروباری سرگرمیوں کے لیے بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔
5. نواز شریف آئی ٹی سٹی میں آئی ٹی سٹارٹ اپس کے لیے قرضہ:
نواز شریف آئی ٹی سٹی میں آئی ٹی سٹارٹ اپس کو ترجیحی بنیادوں پر قرض فراہم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب کا بیان:
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ "پنجاب میں تجارت اور صنعت کو فروغ دے کر روزگار کے مواقع بڑھائیں گے" تاکہ صوبے کی معیشت میں استحکام آئے اور شہریوں کے لیے نئے معاشی مواقع پیدا ہوں۔
نتیجہ:
یہ سکیمیں پنجاب میں کاروبار کے فروغ کی سمت میں ایک اہم قدم ہیں اور چھوٹے اور میڈیم کاروباروں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ان سکیموں سے نہ صرف روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صوبے کی معیشت کو بھی مضبوط کیا جائے گا۔