جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول نے ملک میں مارشل لا لگانے کے فیصلے پر قوم سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ وہ آئندہ کبھی بھی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے۔
مارشل لا نافذ کرنے کا پس منظر:
3 دسمبر کو صدر یون سک یول نے جنوبی کوریا میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں آئین کے تحفظ کے لیے یہ اقدام اٹھانا پڑا کیونکہ ان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا۔تاہم، ان کے اس فیصلے کے بعد ملک میں شدید احتجاج شروع ہوگیا، عوام سڑکوں پر نکل آئے اور پارلیمان نے بھی صدر کے اس اقدام کو مسترد کر دیا۔چند گھنٹوں کے اندر ہی صدر کو یہ فیصلہ واپس لینا پڑا، اور انہوں نے قوم سے معافی مانگتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ دوبارہ ایسی کوئی کوشش نہیں کریں گے۔
قانونی اور سیاسی نتائج:
صدر کے مارشل لا نافذ کرنے کے اعلان کے بعد، جنوبی کوریا کے قانون سازوں نے ان کے خلاف مواخذے کی تحریک جمع کرادی، جس سے ملک میں سیاسی بحران مزید بڑھ گیا۔عوامی ردعمل اور پارلیمانی دباؤ کے باعث صدر نے اپنی غلطی تسلیم کی اور آئندہ کے لیے مارشل لا لگانے کے اقدام کو مسترد کرنے کا وعدہ کیا۔صدر یون سک یول کی اس معافی کے بعد بھی جنوبی کوریا میں سیاسی ہلچل جاری رہی، اور ان کے آئندہ اقدامات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔