جنوبی کوریا کے صدر یون سک یول کے خلاف مواخذے کی دوسری تحریک کامیاب ہوگئی ہے جس کے بعد انہیں اپنے فرائض سے معطل کر دیا گیا ہے۔
یہ تحریک صدر کی جانب سے مارشل لاء لگانے کے الزامات کے تحت پیش کی گئی تھی، اور پارلیمنٹ کے 300 ارکان میں سے 204 نے اس تحریک کے حق میں ووٹ دیا۔ اس کے بعد اب عدالت فیصلہ کرے گی کہ صدر کو عہدے سے ہٹایا جائے یا نہیں۔اس تحریک کی کامیابی کے بعد، صدر یون سک یول کو معطل کردیا گیا ہے، اور اب عدالت کو 180 دنوں کے اندر اس معاملے کا فیصلہ کرنا ہے۔ اگر صدر یون کو ہٹایا گیا تو وہ جنوبی کوریا کے دوسرے صدر ہوں گے جنہیں مواخذے کا سامنا کرنا پڑا، اس سے قبل 2004 میں صدر روہ مو ہیون کے خلاف بھی مواخذے کی تحریک پیش کی گئی تھی، لیکن عدالت نے ان کی برطرفی کی حمایت نہیں کی تھی۔
صدر یون کے خلاف مواخذے کی تحریک پر دارالحکومت سیؤل میں تقریباً 2 لاکھ مظاہرین نے احتجاج کیا اور صدر سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ حکومتی پارٹی کے ارکان نے بھی اس تحریک کی حمایت کی اور پارلیمنٹ میں مواخذے کے حق میں ووٹ دیا۔جنوبی کوریا کی عدالت میں اس وقت صرف 6 جج ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ان کا فیصلہ متفقہ ہونا چاہیے۔ اگر صدر یون سک یول کو برطرف کیا جاتا ہے تو یہ جنوبی کوریا کے سیاسی تاریخ کا ایک سنگین موڑ ہوگا۔