510 مقامات پر آج دھرنے، سڑکیں بند حافظ نعیم الرحمن
ملک کے تمام اضلاع کو ملانے والی اور اہم سڑکیں بند کرینگے ، حکومت کو عوام کے مطالبات پورے کرنا ہوں گے، ایک لیٹر پٹرول پر 125 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، حکومت لیوی ختم کر دے تو معیشت ٹھیک ہو جائے گی: خطاب
اسلام آباد (خصوصی رپورٹ،بیورو رپورٹ ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ عوام پر مزید ظلم برداشت نہیں،پٹرول 225 روپے لٹر کیا جائے، آج ملک کے 510مقامات پر پرامن دھرنے ہوں گے، سڑکیں بند کریں گے، صرف ایمبولینس کو راستہ ملے گا، رکاوٹیں کھڑی کی گئیں تو لیوی کے خلاف ا حتجاج حکومت گرائو تحریک میں بدل دیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے زیراہتمام وحدت روڈ پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور مہنگائی کے خلاف منعقدہ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ امیر لاہور ضیا الدین انصاری ایڈووکیٹ ، صدر حلقہ خواتین ڈاکٹر حمیرا طارق، سمیحہ راحیل قاضی، ثمینہ سعید اور عظمیٰ عمران نے بھی مظاہرین سے خطاب کیا۔مظاہرہ امیر جماعت اسلامی کی جانب سے ملک کے تمام اضلاع کو ملانے والی اور اہم سڑکیں بند کرنے کے اعلان سے ایک روز قبل منعقد کیا گیا جس میں خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ حکومت کو عوام کے مطالبات پورے کرنا ہوں گے، حکمرانوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو حالات کی تمام تر ذمہ داری انہی پر عائد ہوگی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پٹرولیم لیوی ٹیکس نہیں بلکہ بھتہ ہے جس سے ہر فرد شدید پریشان ہے۔ غریب آدمی سے ایک لیٹر پٹرول پر 125 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ خطے میں جنگی حالات کے دوران عالمی مارکیٹ کا بہانہ بنا کر قیمتیں بڑھائی گئیں، جنگ ختم ہونے کے بعد جب قیمت 74 ڈالر فی بیرل ہو گئی تب بھی پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پرانی سطح پر نہیں لائی گئیں۔ لیوی کی صورت میں اب تک 8 ہزار ارب روپے کا بھتہ وصول کیا جا چکا ہے لیکن ان میں سے ایک روپیہ بھی آئل ریفائنریز اور پٹرولیم انفراسٹرکچر کو بہتر کرنے کے لیے نہیں لگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت لیوی ختم کر دے تو معیشت ٹھیک ہو جائے گی۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اقتدار میں بیٹھے فارم سنتالیس کے حکمرانوں کے پاس قوم کی لوٹی ہوئی دولت ہے، یہ عوام کا دکھ اور تکلیف نہیں سمجھ سکتے۔ خواتین کو گھر کا کچن چلانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور وہ گھر چلانے کے لیے اپنے زیورات بیچنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔ پیرا فورس جیسے ادارے غریب آدمی کی ریڑھیاں الٹانے میں مصروف ہیں۔تعلیم کو طبقات میں تقسیم کر دیا گیا ہے، بیوروکریسی عوام کو محکوم سمجھتی ہے ، عوام کے آواز اٹھانے پر پابندیاں ہیں، حکمران خود تسلیم کر رہے ہیں کہ نظام ناکارہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف انتظامی یونٹس کا نہیں ہے پورا نظام ہی مفلوج ہے اور ایسے ماحول میں جبر کے خلاف آواز بلند کرنا ہر شخص کا دینی و قومی فرض ہے۔