صوبائی اسمبلی سے قبل سینیٹ اور قومی اسمبلی سے دوتہائی اکثریت سے آئینی ترمیم کرنا پڑے گی، نئے صوبوں کیلئے کم ازکم آئین کے چار آرٹیکلز میں ترمیم کرنا ہو گی ، صوبوں کی تعداد سینیٹ، قومی صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں ردوبدل کرناہوگا
منظوری کے بعد بل توثیق کے لئے صدرمملکت کو بھیجا جائے گا ، صدر کی منظوری سے نئے صوبوں کے قیام پر کارروائی کا آغاز ہو گا ، صوبائی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے بل منظور نہ کر سکی توساری کارروائی غیر موثر ہو جائے گی:پارلیمانی ذرائع
اسلام آباد(آئی این پی)ملک میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق حکومتی سطح پر مشاورت کا عمل تیز ہوگیا ہے، جبکہ وزارت پارلیمانی امور اور وزارت قانون آئینی و قانونی پہلوں کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں۔پارلیمانی ذرائع کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئین کے آرٹیکل 239 پر عملدرآمد لازم قرار دیا گیاہے، کے پی اور پنجاب اسمبلیوں کی پہلے سے منظور شدہ قراردادوں کی کوئی اہمیت نہیں، صوبائی اسمبلی سے قبل سینیٹ اور قومی اسمبلی سے دوتہائی اکثریت سے آئینی ترمیم کرنا پڑیگی، نئے صوبوں کے لیے کم ازکم آئین کے چار آرٹیکلز میں ترمیم کرنا ہو گی ۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق آئین کے آرٹیکل 1-51-59 اور 106 میں ترمیم کرنا ہو گی ، صوبوں کی تعداد سینیٹ، قومی صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں ردوبدل کرناہوگا، خواتین اور اقلیتوں کی نشستوں کا بھی نئے سرے سے تعین کرنا ہو گا ، آرٹیکل 239 کے تحت بل سینیٹ یا قومی اسمبلی میں سے کسی ایک اجلاس میں پہلے پیش ہوگا۔سینیٹ،قومی اسمبلی سے دوتہائی اکثریت سے منظوری کے بعد بل صدر کے بجائے متعلقہ صوبائی اسمبلی کو بھیجنا ہو گا، آرٹیکل 239 کے تحت صوبائی اسمبلی کو بل دو تہائی اکثریت سے منظور کرنا ہو گا ، سینیٹ،قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی سیدو تہائی اکثریت سے منظوری پرہی نیا صوبہ بن سکے گا۔صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بعد بل توثیق کے لیے صدرمملکت کو بھیجا جائے گا ، صدرمملکت کی منظوری سے نئے صوبوں کے قیام پر کارروائی کا آغاز ہو گا ، صوبائی اسمبلی دو تہائی اکثریت سے بل منظور نہ کر سکی توساری کارروائی غیر موثر ہو جائیگی۔