گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہوئی، جس میں اُن سے یہ الفاظ منسوب کیے گئے: ’’ہمارے لوگ بھارت کی پارلیمنٹ میں بیٹھے ہیں‘‘۔
ویڈیو کو بنیاد بنا کر متعدد بھارتی صارفین نے سوشل میڈیا پر بلاول کے خلاف شدید ردعمل دیا اور اسے سیاسی پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کیا۔
جعلسازی بے نقاب
تحقیقی ادارے "آئی ویری فائی پاکستان" نے اس ویڈیو کی جانچ کی تو معلوم ہوا کہ ویڈیو کی آڈیو مکمل طور پر جعلی ہے۔ ادارے کے مطابق بلاول بھٹو زرداری کے اصل بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، اور آڈیو میں واضح طور پر لبوں کی حرکات اور آواز کا میل نہیں ہو رہا۔ اس کے علاوہ، ہندی الفاظ کا غیر فطری انداز میں استعمال اور "وزیرِاعظم" جیسے الفاظ کا مشکوک تلفظ بھی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آڈیو بعد میں تبدیل کی گئی۔
اصل تقریر کیا تھی؟
ریورس امیج سرچ کے ذریعے تصدیق ہوئی کہ ویڈیو 7 مئی 2025 کی ہے، جب بلاول بھٹو نے قومی اسمبلی میں بھارت سے متعلق جاری کشیدگی پر خطاب کیا تھا۔ اصل خطاب میں بلاول بھٹو نے کہا تھا:’’صرف چور اور بزدل رات کے اندھیرے میں حملہ کرتے ہیں، اگر ان میں ذرا بھی حوصلہ ہوتا تو وہ دن کے وقت اپنے حملے کا اعلان کرتے۔ ہم جنگ کے حامی نہیں، لیکن بھارت کو تیار رہنا چاہیے کیونکہ پاکستان نے ابھی جواب دینا ہے، اور یہ جواب اندھیرے میں نہیں بلکہ عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق دیا جائے گا۔‘‘خطاب میں کہیں بھی بھارتی پارلیمنٹ یا اس میں "ہمارے لوگوں" کی موجودگی کا کوئی تذکرہ نہیں تھا۔
ویڈیو کیسے وائرل ہوئی؟
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ویڈیو کو سب سے پہلے 31 جولائی کو ایک بھارتی صارف نے پوسٹ کیا، جس نے بلاول بھٹو کے قومی اسمبلی خطاب کو بھارت کی رکن پارلیمنٹ گورو گوگئی کے لوک سبھا میں بیان کے ساتھ ایڈیٹ کر کے جوڑا۔ اس ویڈیو کو صرف ایک پوسٹ پر ایک لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا اور 5,200 بار شیئر کیا گیا۔ بعد ازاں یہ ویڈیو انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی بڑے پیمانے پر شیئر ہوئی، جہاں بلاول بھٹو کا فرضی بیان تصاویر کی شکل میں بھی گردش کرتا رہا، جنہیں ہندوتوا نظریے سے منسلک اکاؤنٹس نے پھیلایا۔