بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز پر دہشت گردوں کے حملے میں 3 جوان مادرِ وطن کی خاطر جامِ شہادت نوش کر گئے

بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز پر دہشت گردوں کے حملے میں 3 جوان مادرِ وطن کی خاطر جامِ شہادت نوش کر گئے

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سکیورٹی فورسز پر دہشت گردوں کے حملے میں تین سرفروش جوان مادرِ وطن پر قربان ہو گئے۔

 یہ واقعہ 5 اور 6 اگست کی درمیانی رات پیش آیا، جب دہشت گردوں نے بھارتی پراکسی دہشت گرد تنظیم ’’فتنہ الہندستان‘‘ کی جانب سے سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کو آئی ای ڈی کے ذریعے نشانہ بنایا۔ حملہ انتہائی سفاکی سے کیا گیا تھا اور اس کا مقصد ملک میں دہشت گردی کو فروغ دینا تھا۔

حملے کی تفصیلات:

حملہ بلوچستان کے مستونگ ضلع میں ہوا، جہاں سیکیورٹی فورسز کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔یہ حملہ بھارت کی پشت پناہی سے چلنے والی دہشت گرد تنظیم ’’فتنہ الہندستان‘‘ کی طرف سے کیا گیا، جو خطے میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے سرگرم ہے۔حملے کے نتیجے میں تین جوان شہید ہوئے: میجر محمد رضوان طاہر، نائیک ابنِ امین، اور لانس نائیک محمد یونس۔
شہداء کی تفصیلات:

میجر محمد رضوان طاہر
عمر: 31 سال
تعلق: نارووال
شہادت: متعدد انسداد دہشت گردی آپریشنز میں قیادت فراہم کی، مادرِ وطن کے لیے اپنی جان قربان کی۔
نائیک ابنِ امین
عمر: 37 سال
تعلق: صوابی
شہادت: اپنی بہادری اور فرض شناسی کا مظاہرہ کیا۔
لانس نائیک محمد یونس
عمر: 33 سال
تعلق: کرک
شہادت: ملک کے دفاع کے لیے اپنی جان دی۔
واقعے کے بعد کی کارروائیاں:
حملے کے بعد فوراً علاقے میں کلیئرنس آپریشن شروع کیا گیا، جس کے دوران بھارتی اسپانسرڈ چار دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا گیا۔ اس کے علاوہ علاقے میں سینیٹائزیشن کا عمل جاری ہے تاکہ مکمل صفائی اور دہشت گردوں کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز کا عزم ہے کہ بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا قلع قمع کیا جائے گا اور ملک کی سرزمین کو دہشت گردوں سے پاک کیا جائے گا۔

سیکیورٹی اور عزم:
پوری قوم اور افواج پاکستان شہداء کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے اور اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔ شہداء کی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید مضبوط بناتی ہیں کہ ہم مادرِ وطن کے دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔

پاکستانی سیکیورٹی فورسز بھارتی سرپرستی میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔