بغیرانکوائری نوکری سے برخاست کرنے کی سزا نہیں دی جا سکتی:سپریم کورٹ

سرکاری ملازم کو دفاع اور ذاتی سماعت کا مکمل موقع فراہم کیا جائے:جسٹس عقیل احمد عباسی
 اسلام آباد(یواین پی)سپریم کورٹ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کسی سرکاری ملازم کو باقاعدہ انکوائری کیے بغیر یا صفائی کا موقع دیے بغیر ملازمت سے برخاست کرنے کی بڑی سزا نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ فطری انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے رپورٹ کے مطابق جسٹس عقیل احمد عباسی نے اپنے تحریر کردہ 6 صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا کہ بڑی سزا دینے کی صورت میں فطری انصاف کے اصول تقاضا کرتے ہیں کہ باقاعدہ انکوائری کی جائے اور سرکاری ملازم کو دفاع اور ذاتی سماعت کا مکمل موقع فراہم کیا جائے.انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی فنڈز سے متعلق مقدمات میں خصوصی احتیاط اور مکمل شفافیت کے ساتھ انکوائری کی جانی چاہیے تاکہ اگر کوئی خورد برد یا بدعنوانی ہوئی ہو تو اس سے متعلقہ رقم بازیاب کی جا سکے اور ذمہ دار اہلکار کو قانون کے مطابق سزا دی جا سکے یہ فیصلہ جسٹس مسرت ہلالی کی سربراہی میں قائم بینچ نے سنایاجس میں جسٹس عقیل احمد عباسی بھی شامل تھے بینچ نے ملک محمد رمضان کی پنجاب سروس ٹربیونل لاہور کے 24 جنوری 2022 کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کی