آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ عالمی معیشت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
ان کے مطابق جنگ کی وجہ سے عالمی شرح نمو میں کمی اور افراط زر میں اضافہ متوقع ہے، جو کہ عالمی مالیاتی استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔جارجیوا نے بتایا کہ اگر یہ جنگ نہ ہوتی تو آئی ایم ایف کے تخمینوں کے مطابق عالمی معیشت کی نمو میں معمولی بہتری آ سکتی تھی، لیکن موجودہ کشیدگی کی وجہ سے تمام اقتصادی راستے مہنگائی اور سست شرح نمو کی طرف جا رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے طول پکڑنے کی صورت میں افراط زر اور اقتصادی نمو پر اثرات مزید شدید ہوں گے، اور متعدد ممالک نے آئی ایم ایف سے مالی معاونت کی درخواستیں بھی جمع کرائی ہیں۔
آئی ایم ایف کی مینجنگ ڈائریکٹر نے یہ بھی واضح کیا کہ آئی ایم ایف موجودہ قرض پروگراموں میں اضافہ کر سکتا ہے تاکہ متاثرہ ممالک کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے اور عالمی مالیاتی استحکام قائم رکھا جا سکے۔یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ اور تجارت پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر اور ترقی یافتہ ممالک پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔