قانون عملی طور پر صرف فلسطینیوں پر لاگو ہوگا، یہودی انتہاپسند اس قانون سے مستثنی رہیں گے :منظور ہونے والے بل کا متن
تل ابیب(آئی ا ین پی )اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینی قیدیوں کے لئے سزائے موت کے قانون کی پہلی منظوری دے دی۔ اجلاس کے دوران عرب رکنِ پارلیمنٹ ایمن عودہ اور انتہاپسند وزیر اتمار بن گویر کے درمیان شدید تلخ کلامی ہوئی جو ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔بِل کے مسودے میں کہا گیا ہے کہ جو شخص نسل پرستی، نفرت یا اسرائیل کو نقصان پہنچانے کے ارادے سے کسی اسرائیلی شہری کو جان بوجھ کر یا لاپرواہی کے باعث ہلاک کرے گا، اسے سزائے موت دی جائے گی اور اس سزا میں کسی قسم کی کمی یا رعایت کی اجازت نہیں ہوگی۔ناقدین کا کہنا ہے کہ بِل کی زبان ایسی ہے کہ اس کے اطلاق کا نشانہ صرف فلسطینی بنیں گے جبکہ فلسطینیوں پر حملے کرنے والے یہودی انتہاپسند اس قانون سے مستثنی رہیں گے۔