گورنر راج یا ایمرجنسی؟صدر‘وزیراعظم جلد ملاقات آئینی اقدامات کے قانونی اور سیاسی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائیگا
ملاقات میں خیبر پختونخوا کی سیاسی، آئینی اور سکیورٹی صورتحال کاجائزہ لیا جائے گا‘ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے لانگ مارچ پر مؤقف اور صوبائی معاملات پر مشاورت ہوگی‘ امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی جائیگی
پاکستان اور پولینڈ کی کاروباری برادریوں کے درمیان روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے‘دونوں ممالک تمام شعبوں میں اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے:پولینڈ کے وزیر سے ملاقات میں گفتگو
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘آئی این پی)پی ٹی آئی کے لانگ مارچ اور خیبر پختونخوا کی صورتحال پر وزیراعظم شہباز شریف نے صدر آصف زرداری سے جلد دوبارہ ملاقات کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں خیبر پختونخوا کی سیاسی، آئینی اور سیکیورٹی صورتحال کاجائزہ لیا جائے گا اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے لانگ مارچ پر مؤقف اور صوبائی معاملات پر مشاورت ہوگی۔ ذرائع کے مطابق صدر اور وزیراعظم کو خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بریفنگ دی جائیگی، صوبے میں جاری سیاسی کشیدگی اور لانگ مارچ کے اثرات پر بھی غور کیا جائے گا۔ اس حوالے سے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات کی ناکامی کے اثرات پر مشاورت ہوگی۔ مذاکراتی عمل میں پیشرفت نہ ہونے کے بعد آئندہ سیاسی حکمت عملی پر بھی غور کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں ممکنہ آئینی اقدامات کے قانونی اور سیاسی پہلوؤں کا جائزہ لیا جائیگا۔دریں اثناء وزیراعظم شہباز شریف سے پولینڈ کے وزیر و کوآرڈینیٹر برائے خصوصی خدمات نے ملاقات کی۔ وزیراعظم شہباز شریف سے پولینڈ کے وزیر، کونسل آف منسٹرز کے رکن اور کوآرڈینیٹر برائے خصوصی خدمات ٹوماش شیمونیاک نے ملاقات کی۔وزیراعظم نے پاکستان اور پولینڈ کے تعلقات میں مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس تاریخی دوستی کو طویل المدتی، مضبوط اور کثیر الجہتی شراکت داری میں تبدیل کرنے کا خواہاں ہے۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان حالیہ روابط کا جائزہ لیتے ہوئے دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے اعلیٰ سطح کی قیادت کے تبادلوں کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیراعظم نے دونوں ممالک کی کاروباری برادریوں کے درمیان روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وزیراعظم نے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس سکیم کے حوالے سے پاکستان کی حمایت پر پولینڈ کا شکریہ ادا کیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک تمام شعبوں میں اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔ ملاقات کے دوران فریقین نے اہم علاقائی و بین الاقوامی امور، بالخصوص مشرق وسطی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نے علاقائی کشیدگی کے خاتمے اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔