پاکستانی فلم "موکلانی — دی لاسٹ موہناز" (Mokhlani — The Last Mohanas) نے عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر دیا ہے۔
فلم نے جیکسن وائلڈ میڈیا ایوارڈ 2025 جیت کر تاریخ رقم کر دی ہے، جو دنیا بھر میں آسکر ایوارڈز کے مساوی اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان کی پہلی فلم جس نے یہ اعزاز حاصل کیا
ہدایت کار جواد شریف کی یہ فلم پاکستان کی پہلی فیچر فلم ہے جسے اس عالمی سطح کے معزز ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔جواد شریف نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا:“تاریخ رقم ہوگئی! ہماری فلم موکلانی — دی لاسٹ موہناز نے جیکسن وائلڈ میڈیا ایوارڈ 2025 جیت لیا۔ یہ لمحہ پاکستانی سینما کے لیے فخر کا باعث ہے۔”
فلم کا موضوع اور پیغام
یہ فلم موسمیاتی بحران (Climate Crisis) کے تناظر میں پاکستان کی معروف منچھر جھیل سے تعلق رکھنے والی موہنا ماہی گیری برادری کی زندگی، جدوجہد اور بقا کی کہانی بیان کرتی ہے۔
فلم اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ کس طرح بڑھتے ہوئے ماحولیاتی تغیرات اور پانی کی قلت نے صدیوں پرانی موہنا ثقافت کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
عالمی سطح پر نمایاں انتخاب
فلم جیکسن وائلڈ میڈیا ایوارڈز 2025 کے لیے دنیا بھر سے موصول ہونے والی 500 سے زائد دستاویزی اور فیچر فلموں میں سے منتخب کی گئی۔یہ ایوارڈ ان فلموں کو دیا جاتا ہے جو قدرتی ماحول، موسمیاتی تبدیلی اور انسانی جدوجہد پر مبنی غیر معمولی کہانیاں دنیا کے سامنے لاتی ہیں۔
فلم کی ریلیز اور پذیرائی
"موکلانی" کا پہلا ٹیزر 4 اکتوبر 2025 کو جاری کیا گیا، جسے بین الاقوامی فلمی حلقوں میں بھرپور پذیرائی ملی۔ فلم کے سنیما ریلیز کی تاریخ جلد متوقع ہے، اور ماہرین کے مطابق یہ فلم پاکستان کی ماحولیاتی سفارتکاری کے لیے ایک مضبوط علامت ثابت ہو سکتی ہے۔
فلم ساز کا پس منظر
جواد شریف اس سے قبل بھی متعدد عالمی سطح کی دستاویزی فلموں کے لیے مشہور ہیں، جن میں "Indus Blues" اور "K2 and the Invisible Footmen" شامل ہیں۔ان کی فلمیں ثقافت، ماحول اور انسانی جذبے کی کہانیوں کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے کے لیے جانی جاتی ہیں۔