محمد قیصر چوہان
پاکستان کی سر زمین پر دشمن قوتیں خون کی ہولی کھیلنے میں مصروف ہیں، بلوچستان دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اور افغانستان کی سرزمین پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ جدید ترین ہتھیاروں سے لیس دہشت گرد بلوچستان کا امن تباہ کر رہے ہیں۔تیس ستمبر کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے کے نتیجے میں10 افرادشہید اور 40سے زائد زخمی ہو گئے جبکہ سیکورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے خودکش بمبار سمیت 6 دہشت گرد مارے گئے۔ ان دہشت گردوں سے اسلحہ اورگولہ بارودبھی برآمد ہواتھا۔بلوچستان میں دہشت گرد تنظیموں کو مکمل بھارتی مدد حاصل ہونے کی وجہ سے دہشت گرد حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ کالعدم تنظیمیں بھارتی مدد سے مسلسل نہتے بے گناہ انسانوں کا قتل عام کررہی ہیں۔ معرکہ حق ’’آپریشن بنیان مرصوص‘‘ میں تاریخی شکست کے بعد نریندرمودی سرکار فتنہ الہندوستان بلوچستان میں کالعدم تنظیموں کے ذریعے دہشت گردی کی آگ بھڑکانے میں مصروف عمل ہے۔بھارتی خفیہ ایجنسیاں پراکسیزکو مالی معاونت فراہم کر تی ہیں، بھارتی اسپانسرڈ پراکسیز نہ صرف حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہیں بلکہ کالعدم تنظیموں کو تربیت اور اسلحہ بھی فراہم کرتی ہیں۔ بھارتی اسپانسرڈ پراکسیز کے کالعدم تنظیموں کے علاج معالجے کیساتھ ساتھ سرکاری روابط بھی قائم ہیںبھارتی حکومت کیساتھ ساتھ بھارتی میڈیا بھی دہشت گردوں کی پشت پناہی میں پیش پیش ہے۔
آج پاکستان کو بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا سامنا ہے، ٹی ٹی پی، فتنہ الخوارج، فتنہ الہندوستان، بی ایل اے اور اس کی مجید بریگیڈ کی دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں، یہ گروہ افغان سرزمین سے آپریٹ کرتے ہیں اور جعفر ایکسپریس جیسے ہولناک حملوں کے ذمے دار ہیں۔پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ناقابل تردید قربانیاں دی ہیں اور اس کا اقتصادی خرچہ بھی بھاری رہا۔ اندازے کے مطابق دو سو ارب ڈالر سے زائد کا نقصان۔ یہ وہ خسارہ ہے جس نے معاشی ترقی ، ملک کی بنیادی ترقیاتی منصوبہ بندی اور عوامی فلاح و بہبود کے پروگرامز کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کینیڈا جیسے ملٹی نیشنل ملک میں گھس کر سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کا قتل بھی بھارتی ریاستی دہشت گردی کی ایک حالیہ مثال ہے۔ حماس اسرائیل جنگ میں انسان دشمنی کی بنیاد پر اسرائیل کا ساتھ دینے اور مظلوم فلسطینیوں پر وحشیانہ بمباری پر خوشی کا اظہار کرنے پر بھارت پوری دنیا کے باشعور اور انسان دوست معاشروں کا اعتماد کھو چکا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے پاکستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے حوالے سے بھارت کا گھناؤنا کردار بے نقاب کیا تھا۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق بھارت پاکستان میں دہشت گردکارروائیوں کے ذریعے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے۔
پاکستان کی سلامتی کو کسی بھی طریقے سے نقصان پہنچانے کا بھارتی ایجنڈا تو قیام پاکستان کے وقت ہی طے پا گیا تھا جس پر عمل کرنے میں بھارت کی کسی بھی حکومت نے کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس ایجنڈے کے تحت ہی پاکستان پر تین باقاعدہ جنگیں مسلط کی گئیں۔1971 کی جنگ میں بھارتی پروردہ دہشت گرد اور عسکری تنظیم مکتی باہنی کی معاونت سے پاکستان کو دولخت کیا گیا جس کے بعد بھارت باقی ماندہ پاکستان کی سلامتی کے بھی درپے ہوگیا۔اس نے آبی دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو کبھی سیلاب میں ڈبونے اورکبھی بھوکا پیاسامارنے کی سازشیں کیں اور پھر باقاعدہ دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کو ٹارگٹ کرنا شروع کردیا گیا۔ بھارت نے افغان حکومت کی معاونت سے افغان سرزمین کو اپنے دہشت گردوں کی تربیت اور انھیں افغان سرحد سے پاکستان میں داخل کرنے کیلئے استعمال کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے جس میں افغانستان کی موجودہ عبوری حکومت بھی اس کی شریک کار بن چکی ہے۔اس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ پاکستانی خفیہ ادارے دہشت گردی کی ان وارداتوں میں بھارت اور افغان حکومت کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد اکٹھے کرکے اقوام متحدہ سیکریٹریٹ،امریکی دفتر خارجہ اور دوسرے عالمی اور علاقائی فورمز کو فراہم کرچکے ہیں۔ صوبہ بلوچستان قیام پاکستان کے ساتھ ہی کئی طرح کی بیرونی سازشوں کا شکار ہوا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ازلی دشمن بھارت نے اس صوبے کو خاص طور پر نشانہ بنایا، پہلے آزاد بلوچستان کی چنگاری سلگائی پھر اس کو ہوا دی گئی۔ دوسری بھارت کی عالمی دہشت گردی صرف بلوچستان، پاکستان تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ وہ پورے خطے کو نشانہ بنا رہا ہے۔ عالمی شواہد اور اعداد وشمار واضح کرتے ہیں کہ بھارت عالمی سطح پر دہشت گردی کا پورا نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ایک طرف وہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہورہا ہے تو دوسری طرف اس نے خود اپنے ملک کے اندر اقلیتوں کا جینا دو بھرکردیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھوٹان،سری لنکا،چین ، بنگلہ دیش اور پاکستان میں بھارتی دراندازی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ عالمی سطح پر بھارتی دہشت گردی،ٹارگٹ کلنگ، ماورائے عدالت قتل اور دوست ممالک کے ساتھ دھوکا دہی کے بے شمار واقعات عالمی میڈیا کی زینت بن چکے ہیں۔پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف طویل اور صبر آزما جنگ لڑی ہے، جس میں ہمارے ہزاروں فوجی، سویلین اور معصوم بچے شہید ہوئے ہیں۔ اس قربانی کے نتیجے میں ملک میں امن کی بحالی ممکن ہوئی ہے۔ اس وقت پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور انٹیلیجنس ادارے پوری طرح چوکنا ہیں اور دشمن کے ہر وار کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی برادری بھارت کی ان کارروائیوں کا سختی سے نوٹس لے اور خطے میں پائیدار امن کے قیام کیلئے انصاف پر مبنی کردار ادا کرے۔ پاکستان امن کا داعی ضرور ہے، مگر اپنی خود مختاری، سلامتی اور عوام کی حفاظت کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔بھارتی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی ایک قومی سانحہ ہے جس کا سامنا ہم متحدہ عزم اور ٹھوس حکمت عملی کے ساتھ کر رہے ہیں۔ یہ سلسلہ محض داخلی انتشار یا سرفہرست عسکری چالوں کا معاملہ نہیں، یہ ایک علاقائی اور بین الاقوامی چیلنج ہے جس کے حل کیلئے عالمی برادری کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ سرپرستی اور سرحدوں کے پار موجود معاونت کو روکے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ٹھوس شواہد بین الاقوامی فورمز پر پیش کریں اور دنیا کو واضح کریں کہ ریاستی دہشت گردی کے اس قسم کے نتائج نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کیلئے خطرناک ہیں۔خاموشی یا مبہم بیانات صرف ان سازشوں کو ہوا دیتے ہیں۔بہتر قومی دفاع کے ساتھ ساتھ ہمیں داخلی سطح پر بھی کمزوریوں کو دور کرنا ہوگا۔ معاشی استحکام، روزگار کے مواقع، تعلیم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا لازمی ہے تاکہ بنیادیں مضبوط رہیں اور عسکریت پسندی کے بیج پروان نہ چڑھ سکیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طاقت اور خفیہ معلومات کے نظام کو مزید تقویت دینا اور سرحدی نگرانی کو مربوط بنانا وقت کی ضرورت ہے۔