رفیع صحرائی
وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کا ایک اور مطالبہ پورا کر دیا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے پنشن اصلاحات کے حوالے سے عالمی مالیاتی فنڈ کا مطالبہ پورا کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی پنشن کے حساب کتاب کا طریقہ تبدیل کر دیا ہے۔ یکم جنوری یعنی سال کے پہلے ہی دن اس تبدیلی کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق سرکاری ملازم کی ریٹائرمنٹ کے وقت اس کی وصول کردہ آخری 24 ماہ کی اوسط بنیادی تنخواہ کے 70 فیصد کے حساب سے اب اس کی پنشن بنے گی۔ قبل ازیں آخری بنیادی تنخواہ کے حساب سے پنشن بنائی جاتی تھی۔ نئی پالیسی کے تحت آخری دو سال کے دوران تنخواہ میں سالانہ انکریمنٹ اور اس دوران سکیل ریوائز ہونے کا مکمل فائدہ اٹھانے سے سرکاری ملازمین کو محروم کر دیا گیا ہے۔
ایک اور اصلاح یہ کی گئی ہے کہ سرکاری ملازمین کی ڈبل پنشن پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اگر کوئی سرکاری ملازم کسی ایک محکمے سے ریٹائرمنٹ لینے کے بعد کسی دوسرے محکمے میں ملازمت اختیار کر کے وہاں بھی مدت ملازمت پوری کرے گا تو اسے ایک ہی پنشن ملے گی۔ قبل ازیں دونوں محکموں سے وہ ملازم پنشن وصولی کا حقدار تھا۔ اس ترمیم میں ایک اور خوفناک اضافہ یہ کیا گیا ہے کہ اب اگر کوئی ملازم ریٹائرمنٹ کے بعد کسی دوسری جگہ سرکاری ملازمت کرے گا تو وہ اپنی پہلی ملازمت کی پنشن کا حقدار نہیں ہو گا۔ قبل ازیں ایسی کوئی پابندی نہ تھی۔ اس کا زیادہ نقصان ہمارے ان فوجی جوانوں کو ہو گا جو چالیس سال کی عمر کے لگ بھگ ریٹائرڈ ہونے کے بعد کم پنشن اور بڑھتے گھریلو اخراجات کی وجہ سے کسی سکول، ہسپتال یا کسی دوسرے محکمے میں بطور سیکورٹی گارڈ نائب قاصد یا کلرک بھرتی ہو جاتے تھے اور اپنی تنخواہ و پنشن کے ساتھ گھر کے اخراجات پورے کرتے تھے۔
وزارت خزانہ کا دعو'ی ہے کہ پنشن اصلاحات سے حکومت کو سالانہ اربوں روپے کی بچت ہو گی۔ اس نوٹیفکیشن میں پنشنرز پر ایک اور کلہاڑا بھی چلایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ قبل ازیں ہر سال بجٹ کے موقع پر جب پنشن میں اضافہ ہوتا تھا تو وہ اضافہ ان کی بنیادی پنشن میں ضم کر دیا جاتا تھا۔ یوں حاضر سروس ملازمین کی طرح پنشنرز کی بنیادی پنشن بھی ہر سال بڑھتی رہتی تھی اور آئندہ بجٹ میں اضافہ اس بڑھی ہوئی بنیادی
پنشن پر ہوتا تھا۔ اب اس میں تبدیلی کر کے حکومت نے بجٹ میں کیے گئے اضافہ کو بنیادی پنشن میں ضم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سالانہ اضافے کا اندراج پنشن سلپ میں علیحدہ سے ہوا کرے گا۔ یعنی آئندہ پنشنرز کی پنشن میں اضافہ پہلی بنیادی پنشن کے حساب سے ہوا کرے گا۔ اس کا پنشنرز کو بہت زیادہ نقصان ہو گا۔ حکومت ہر سال حاتم طائی کی قبر پر لات مار کر سالانہ بجٹ کے موقع پر پنشن میں دس فیصد اضافے کا اعلان کرے گی۔ نئے پنشنرز کی پنشن میں تو وہ اضافہ دس فیصد ہی ہو گا مگر پنشنرز کی بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہو گی جن کی پنشن میں یہ اضافہ دو یا تین فیصد ہو گا۔ یہ اصلاحاتی تبدیلی پنشنرز کے ساتھ زیادتی نہیں بلکہ ظلم ہے۔ یہ ظلم ایسے وقت کیا گیا ہے جبکہ اراکینِ پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں حکومت نے 900 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے۔ یعنی حاضر سروس اور ریٹائرڈ غریب سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سالانہ اربوں روپے کا کٹ لگا کر وہ اربوں روپے اراکین پارلیمنٹ، وزراء اور مشیروں کو دینے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ حیرت ہے کہ اراکین پارلیمنٹ، وزراء اور مشیروں کی تنخواہ میں 900 فیصد اضافے پر آقا و مربی آئی ایم ایف کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔
ہمارے نوجوان سیاست دان چیئرمین پیپلز پارٹی جناب بلاول بھٹو زرداری سابقہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے طنزاً پارٹی کا نام بگاڑ کر سابقہ حکومت کو پی ٹی آئی ایم ایف کی حکومت کہا کرتے تھے۔ آج عملی طور پر وہ ایسی حکومت کے اتحادی ہیں جو آئی ایم ایف کی ہر شرط کو فرض مان کر پورا کر رہی ہے۔
جناب وزیرِ اعظم کا ایک بیان آج ہی اخبارات کی زینت بنا ہے جس میں وہ قوم کو یہ خوش خبری سنا رہے ہیں کہ ملکِ عزیز میں مہنگائی گزشتہ 81 ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ اگر محترم وزیرِ اعظم کی بات کو سچ مان لیا جائے تو پھر سوال تو اٹھتا ہے کہ مہنگائی میں اتنی زیادہ کمی کے باوجود اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں بہت بڑا اضافہ کرنے کا کیا جواز ہے؟ کیا یہ کھلم کھلا تضاد نہیں ہے؟
کچھ عرصہ قبل رول 17 اے ختم کر کے دورانِ ملازمت فوت ہو جانے والے سرکاری ملازمین کے بچوں کا ملازمت میں کوٹہ ختم کر کے ان سے ایک جائز رعایت واپس لینے کا نامناسب فیصلہ بھی ہو چکا ہے۔ سرکاری ملازمین مسلسل حکومت کے نشانے پر ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ حکومت کا کسی اور پر بس ہی نہیں چلتا۔
قبل ازیں لیو انکیشمنٹ کے قانون میں تبدیلی کر کے حکومتِ پنجاب نے کرپشن کی ایک نئی راہ کھول دی ہے۔ ملازمین اپنی ایل پی آر ریجیکٹ کروانے کے لیے ہزاروں اور افسران لاکھوں روپے رشوت دینے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں۔ اللہ جانے حکمرانوں کے من میں کیا سمائی ہے کہ ملازمین کُش پالیسیوں کا نفاذ کر کے آئے روز ان کی گردن پر ایک نئی کُند چھری چلائی جا رہی ہے۔ ملازمین تیس پینتیس سال پہلے جن مراعات اور شرائط پر ملازم ہوئے تھے ان میں تبدیلیاں کر کے مراعات واپس لینا سراسر زیادتی ہے۔ یہ مراعات حکومت کی طرف سے اپنے خدمت گاروں کو دیئے گئے تحفے ہوتے ہیں۔حکومتوں اور حکمرانوں کے دل بہت بڑے ہوتے ہیں۔ انہیں کشادہ دل ہی رہنا چاہیے۔ تحفے دے کر واپس نہیں لیے جاتے۔