رباب گل
کتابوں کی اہمیت کسی بھی ریاست کے لیے ویسی ہی ہے جیسے قومی خزانے کی ہوتی ہے۔ جس طرح خزانے کے بغیر کوئی مملکت نہ صرف کمزور ہو جاتی ہے بلکہ تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتی ہے، اسی طرح کتابوں کے بغیر کسی قوم کی تہذیب، ترقی اور فکری رہنمائی ممکن نہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کو سنوارنے اور راستہ دکھانے کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام مبعوث کیے گئے اور ان پر کتب و صحائف نازل کیے گئے تاکہ انسانیت کے لیے ہدایت کے چراغ روشن ہوں۔ مگر ان میں سے کوئی کتاب اپنی اصل شکل میں باقی نہ رہی سوائے اْس الہامی کتاب کے جو اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ترین نبی، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل فرمائی۔
قرآن مجید، وہ عظیم الشان کتاب، جسے اللّٰہ رب العزت نے نہ صرف ہدایت کا سرچشمہ بنایا بلکہ اس کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اپنے ذمے لی۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
(بلاشبہ یہ ذکر ہم نے نازل کیا اور یقیناً ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں)۔
تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمان اس مقدس کتاب سے جڑے رہے، دنیا کے افق پر ان کا چراغ روشن رہا۔ مسلمانوں کی حکمرانی نہ صرف علاقوں میں بلکہ یہودیوں اور دیگر اقوام کے دلوں پر بھی قائم رہی۔ عدل و انصاف، سچائی اور امانت داری جیسے اوصاف ان کے اوڑھنے بچھونے بنے رہے اور یہی اوصاف انہیں دنیا کی دیگر قوموں سے ممتاز کرتے رہے۔
لیکن المیہ یہ ہوا کہ وقت گزرنے کے ساتھ مسلمان اس روشنی کے منبع سے دور ہو گئے۔ قرآن کو محض اختلافات کے فیصلے کرنے اور حلف اْٹھانے کا ذریعہ بنا دیا۔ وہ کتاب جو رہنمائی کے لیے تھی، اب صرف زینتِ طاق بن کر رہ گئی۔ نتیجتاً، زوال ان کا مقدر بن گیا۔ پستی اور بدحالی نے ان کے قدم جکڑ لیے۔ اس کے برعکس، جن اقوام نے اس کتاب کے تراجم کیے اور اس کی تعلیمات پر عمل کیا، وہ ترقی کی بلندیوں کو چھو گئیں۔
اگر ہم یورپ کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ انہوں نے قرآن کے اصولوں کو اپنی زندگیوں میں اپنایا۔ عدل و انصاف، ناپ تول کی درستگی اور دیانت داری جیسی صفات جنہیں ہم نے پسِ پشت ڈال دیا، وہی ان کی کامیابی کا راز بن گئیں۔ اور ہم۔۔۔ ہم نے قرآن کے سنہری اصولوں کو چھوڑ کر دنیاوی مفادات کو ترجیح دی۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ علامہ اقبال?، جو ہماری ملت کے شاعر تھے، جن کی شاعری نے نوجوانوں کو خودی اور عظمت کا پیغام دیا، ان کی تخلیقات کا کماحقہ فائدہ یورپ نے اٹھایا۔ انہوں نے اقبال کے افکار کو سمجھا، اپنایا اور ترقی کی منازل طے کر لیں۔ مگر ہم نے ان کے کلام کو یا تو نظر انداز کیا یا اسے صرف رسمی تعظیم کا حقدار جانا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری نوجوان نسل، جو کبھی خواب دیکھنے اور ان کی تعبیر پانے کا عزم رکھتی تھی، آج یورپی کلچر کی تقلید میں مصروف ہے اور اپنی شناخت کھو چکی ہے۔
یہی حال کتابوں، رسالوں اور اخبارات کا ہے۔ یہ محض رسمی خریداری کے لیے رہ گئے ہیں۔ آج کتب خریدی تو جاتی ہیں مگر پڑھنے والے کم ہی ہیں۔ بڑے شعراء کا کلام، جو انسان کے دل و دماغ کو روشنی عطا کرتا تھا، اب فٹ پاتھوں پر رْل رہا ہے۔ اپنی اس قدر تذلیل دیکھ کر کتابیں آہ بھرتی ہیں۔ مگر افسوس کہ ہم ان کی آہ نہیں سنتے۔۔۔
آج کی نسل اپنی زندگی موبائل اور انٹرنیٹ کی محدود دنیا تک محصور کر چکی ہے۔ وہ نہ ان قیمتی کتابوں کی قدر کرتی ہے اور نہ ان کے پیغام کو سمجھتی ہے۔ علم کی یہ بے قدری اور کتابوں سے دوری، درحقیقت، ہمارے زوال کی ایک بڑی وجہ ہے۔
یہ وقت خود احتسابی کا ہے۔ ہمیں اپنی کھوئی ہوئی عظمت کو پانے کے لیے کتابوں کی جانب پلٹنا ہوگا۔ قرآن مجید کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا ہوگا اور اقبال کے پیغام کو سمجھنا ہوگا۔ یہی ہماری نجات اور ترقی کا راستہ ہے۔