احتساب عدالت کا خورشید شاہ اور اویس شاہ کے خلاف ریفرنس ایف آئی اے کو منتقل کرنے کا حکم

احتساب عدالت کا خورشید شاہ اور اویس شاہ کے خلاف ریفرنس ایف آئی اے کو منتقل کرنے کا حکم

احتساب عدالت سکھر نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ، ان کے بیٹے فرخ شاہ، اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس ایف آئی اے کو منتقل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

 عدالت کا یہ فیصلہ جج غلام یاسین کولاچی نے سنایا۔اس کیس میں خورشید شاہ کے صاحبزادے فرخ شاہ، وکیل محفوظ اعوان اور دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ گزشتہ سماعت پر نیب کی جانب سے 6 سال کے بعد 19 کروڑ سے زائد مالیت کا حتمی چالان جمع کرایا گیا تھا۔ نیب نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ملزم خورشید شاہ اور دیگر کے اثاثوں کی مالیت 1 ارب 23 کروڑ روپے سے کم ہے، اسی لیے انہوں نے استدعا کی کہ کیس کو ایف آئی اے کو منتقل کیا جائے تاکہ ان کی تفتیش وہاں مکمل کی جا سکے۔

وکلاء کی طرف سے بھی یہ موقف پیش کیا گیا کہ یہ کیس اینٹی کرپشن سے متعلق ہے، اس لیے اسے اسی ادارے کے تحت چلایا جائے۔ عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔اس ریفرنس میں خورشید شاہ، ان کے بیٹے فرخ شاہ، زیرک شاہ، اویس شاہ سمیت 18 افراد شریک ہیں۔ یہ کیس اثاثہ جات سے متعلق الزامات کے تحت چل رہا ہے، اور عدالت کا حکم اس کیس کے آئندہ کارروائی کے لیے اہم ہے۔