کسی صوبے کو خوراک اور اجناس کی ترسیل روکنے کا اختیار نہیں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا

 گندم کے مسئلے کے حل کیلئے بین الصوبائی ہم آہنگی ضروری ہے‘سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر عوام کے رزق پر سیاست نہیں ہونی چاہیے:سہیل آفریدی
 وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا   پارلیمنٹ ہائوس پہنچ گئے،  بانی سے ملاقات کیلئے قومی اسمبلی میں  پی ٹی آئی   ارکان کی جانب سے  قرارداد جمع  کرادی
 پارلیمنٹ سپریم ہے اس لیے یہاں قرارداد جمع کرانا مناسب سمجھا، ستائیسویں آئینی ترمیم کی  مخالفت کریں گے:سہیل آفریدی کی میڈیا سے گفتگو 
 پشاور(یواین پی‘آئی این پی)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کسی صوبے کو خوراک اور اجناس کی ترسیل روکنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے بین الصوبائی رابطہ کے وفد نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی سے ملاقات کی، جس میں وفد نے انہیں منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی۔اجلاس میں پنجاب حکومت کی جانب سے گندم کی آزاد نقل و حرکت پر پابندیوں کا معاملہ زیرِ غور آیا۔ اس حوالے سے سہیل آفریدی نے کہا کہ آرٹیکل 151 کے تحت بین الصوبائی تجارت تمام صوبوں کا آئینی حق ہے۔ کسی صوبے کو خوراک اور اجناس کی ترسیل روکنے کا کوئی اختیار نہیں۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ مگر عوام کے رزق پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے وفد کو خیبر پختونخوا کے عوام کا سفیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ گندم کے مسئلے کے حل کے لیے بین الصوبائی ہم آہنگی ضروری ہے‘دریں اثناء وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پارلیمنٹ ہائوس پہنچ گئے۔قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے ارکان کی جانب سے ایک قرارداد جمع کرائی گئی   جس میں وزیر اعلی خیبر پختونخوا کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔قرارداد میں کہا گیا   کہ بانی پی ٹی آئی سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی ملاقات پارٹی پالیسی کے تسلسل اور صوبے کے مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پارلیمنٹ ہاس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں آج پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کیلئے آیا تھا، بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی قرارداد جمع کرانی تھی۔انہوں نے کہا کہ جس دن سے میں وزیر اعلیٰ بنا ہوں میں نے سب کو ملاقات کیلئے کہا لیکن میری ملاقات نہیں ہوئی پھر میں ہائیکورٹ بھی گیا کہ میری ملاقات کرائی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے اس لیے یہاں قرارداد جمع کرانا مناسب سمجھا، ستائیسویں آئینی ترمیم کی ہم مخالفت کریں گے