ویب ڈیسک:سابقہ اسٹیج اداکارہ نگار چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے، اور اس سب کے پیچھے میڈیم نرگس اور ان کے شوہر ماجد بشیر کا ہاتھ ہے۔
نگار چوہدری نے کہا کہ ڈیڑھ سال قبل ان کی نرگس سے ملاقات ہوئی تھی، اور ان کے درمیان دوستی ہو گئی تھی۔ وہ اکثر نرگس کی پارٹیوں میں جایا کرتی تھیں، مگر شادی کے بعد انہوں نے نرگس کی ایک دعوت قبول کرنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی۔
نگار چوہدری کے مطابق نرگس اور ماجد بشیر کی پارٹی میں ان کی ملاقات رانا اکرم سے ہوئی تھی، جو مبینہ طور پر ان کے نام پر بڑی رقم وصول کرتے رہے۔ نگار نے دعویٰ کیا کہ یہ سب ایک سازش تھی جس کا مقصد ان کے شوہر کو جیل میں ڈال کر انہیں بلیک میل کرنا تھا تاکہ وہ نرگس اور ماجد بشیر کے مطالبات ماننے پر مجبور ہو جائیں۔
انہوں نے بتایا کہ دس تاریخ کو ان کے شوہر پر منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا گیا، جس کے بعد انہیں نرگس کے شوہر ماجد بشیر کے فون آنا شروع ہو گئے، مگر انہوں نے ان کی کالز کا جواب نہیں دیا۔ نگار چوہدری نے الزام لگایا کہ ان کے شوہر کو جیل میں کرنٹ لگا کر ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رانا اکرم، محمد علی بٹ اور ماجد بشیر مل کر ان پر دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ وہ ان کی باتیں مانیں اور ان کے ساتھ دوبارہ تعلقات استوار کریں۔
نگار نے مزید انکشاف کیا کہ ان کے گھر پر ریڈ کے دوران رانا اکرم اور کچھ دیگر افراد نے سامان لے لیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ وہ سامان واپس کیا جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ نگار نے کہا کہ انہیں دھمکیاں بھی دی گئی ہیں کہ اگر وہ خاموش نہ رہیں تو ان کے ساتھ زیادتی کی جائے گی۔
نگار چوہدری نے بتایا کہ انہیں بلیک میل کرنے کے لئے پہلے 50 لاکھ اور پھر 70 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے اس صورتحال کے خلاف سی سی پی او کو درخواست دی ہے، جس کے بعد پولیس کی تحقیقات میں رانا اکرم کو قصور وار ٹھہرایا گیا ہے۔
پریس کانفرنس میں نگار چوہدری نے حکام سے اپیل کی کہ ان کا سامان واپس کیا جائے، ان کے شوہر کو رہا کیا جائے، اور رانا اکرم اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔