توانائی کے حوالے سے جلد اچھی خبر دینگے(شہبازشریف)

وزیراعظم سے ایرانی وزیرخارجہ کی ملاقات‘ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت، خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہ‘فلسطینی عوام کو حق خودارادیت دینا ضروری ہے:وزیراعظم

 شرح سود میں کمی  خوش آئند ہے اس سے پاکستان پر قرضوں کے حجم میں 1300 ارب روپے کمی آئی ہے ،ایسے ہی بہتری آتی رہی تو معیشت اچھے طریقے سے آگے بڑھے گی،معاشی اشاریے مثبت سمت گامزن ہیں:کابینہ اجلاس میں گفتگو 

اسلام آباد کو مزید خوبصورت بنائیں تاکہ ہر آنے والامتاثر ہو،ایس سی او کانفرنس کے انتظامات  پر  محسن نقوی شاباش کے مستحق ہیں: جناح ایونیو نائتھ ایونیو انٹر سیکشن اور سرینہ چوک کنونشن سنٹر انٹر سیکشن کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب 

 اسلام آباد(بیورو رپورٹ‘ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے  شرح سود میں کمی  خوش آئند ہے اس کے نتیجے میں پاکستان پر قرضوں کے حجم میں 1300 ارب روپے کمی آئی ہے ،ایسے ہی بہتری آتی رہی تو معیشت اچھے طریقے سے آگے بڑھے گی،معاشی اشاریے مثبت سمت کی جانب گامزن ہیں۔منگل کو  وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پالیسی ریٹ کم ہونے سے ملک کو  بہت سے فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے پاکستان میں کاروبار کی حوصلہ افزائی ہوگی، جس سے پیداوار اور ایکسپورٹ سمیت ملازمتوں کے مواقع بھی بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شرح سود میں ڈھائی فی صد کی کمی ہونا اچھی پیش رفت ہے، جو اسٹیٹ بینک گزشتہ کچھ ماہ سے بتدریج 22 سے 15 فی صد تک لے کر آیا ہے۔ اب امید ہے کہ ہمارے معاشی اشاریے اسی طرح بہتری کی جانب رہے تو پاکستان کی معیشت بہت اچھے انداز سے بڑھتے ہوئے مزید مضبوط ہوگی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز اسمبلی کے اجلاس کے بعد پاکستان کا اہم وفد سعودی عرب روانہ ہوا ہے، جو میرے دورہ سعودی عرب اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ملاقات میں طے پائے معاملات پر بات چیت کرے گا۔  انہوں نے بتایا کہ سعودی ولی عہد نے پاکستان کی ترقی و خوشحالی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں مشترکہ معاملات میں تیزی سے فیصلے کرنا ہوں گے، اسی سلسلے میں پاکستانی وفد سعودی عرب روانہ ہوچکا ہے۔    وفد کے دورے میں شمسی توانائی، ہنرمند افرادی قوت اور کان کنی کے شعبوں سے متعلق امور زیر غور آئیں گے، پاکستانی وفد آئی ٹی ،معدنیات اور توانائی کے شعبے پر بات کرے گا۔  وزیراعظم نے مزید کہا کہ آذربائیجان کے ساتھ بھی 2ارب ڈالر کے معاہدوں کے حوالے سے بات ہوئی ہے، یہ ہم پر منحصر ہے کہ کس حد تک ایم او یوز سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا کہ جہاں دیگر شعبوں سے اچھی خبریں آ رہی ہیں، وہیں مائنز اینڈ منرلز، سولر انرجی اور خاص طور پر آئی ٹی کا شعبہ ہمارے لیے اہم ہے۔ ہمارے آئی ٹی ماہر نوجوانوں کی  سعودی عرب، قطر سمیت دنیا  بھر میں ضرورت ہے۔ امید ہے کہ وزارت آئی ٹی اس حوالے سے اپنی کارکردگی دکھائے گی۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مختلف ممالک کے ساتھ بزنس ٹو بزنس سمجھوتوں پر   ہم تیزی کے ساتھ آگے  بڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح آذربائیجان کے ساتھ 2 ارب ڈالر کے سمجھوتے سائن کرنے کا وقت بھی آ چکا ہے۔ ان کے صدر نے پیغام بھیجا ہے کہ ہم تیار ہیں۔ یہ سب بہت اچھے اشارے ہیں، اب ہم پر منحصر ہے کہ ہم ان حالات سے کتنا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اپنے  خطاب میں وزیر اعظم نے کہا کہ کل جو پالیسی ریٹ ڈھائی فی صد کم ہوا ہے، اس سے قرضوں کا حجم 1.3 ٹریلین (1300 ارب روپے)  کم ہوگا۔ اس سے ہمارا سرکاری قرضوں کے بوجھ میں کمی آئے گی اور مستقبل میں اس کے اور بھی فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ قدم کے ساتھ قدم ملا کر آگے بڑھیں گے تو پاکستان کو کامیابی ضرور حاصل ہوگی۔کاروباری برادری کا حوصلہ افزائی اور انہیں اہمیت دے کر ہم اپنی معیشت کو مضبوط کر سکتے ہیں اور آگے بڑھ سکتے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ پاور سیکٹر سے بھی ایک اور اچھی خبر ہے،  جو سردیوں کے لیے ایک اچھا پیکیج ہے۔ اس سے پاکستان کی معیشت اور عام آدمی کو ریلیف ملے گا۔ صنعتیں وسیع ہوں، لوگوں کو روزگار ملے گا اور پاکستان اپنے پیروں پر کھڑا ہوگا۔ وہی اقوام آگے بڑھتی ہیں جو کمر کس لیں اور فیصلہ کرلیں کہ ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے لیے پرعزم ہوں۔ پاکستان کو بھی ان شا اللہ ہم سب کی اجتماعی کاوشوں کے نتیجے میں کامیابی حاصل ہوگی۔دریں اثناء  ایران کے وزیر خارجہ عزت مآب سید عباس عراقچی سے ملاقات میں  شہباز شریف نے ایران پر اسرائیل کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے ایران کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ غزہ میں فوری جنگ بندی، امداد کی فراہمی اور سب سے بڑھ کر فلسطینی عوام کو حق خودارادیت دینا ضروری ہے۔، وزیر اعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور صدر مسعود پیزشکیان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے پاکستان کی ایران کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ مزید برآں وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کے تبادلوں کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ مشترکہ مفاد کے تمام شعبوں میں باہمی فائدہ مند تعاون کو بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا‘علاوہ ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے  اسلام آباد بہت خوبصورت شہر ہے ُ اس کو مزید خوبصورت بنائیں اوریہ سدا بہار رہنی چاہیے تاکہ بارہ مہینے جوبھی مہمان باہر سے یادوسرے شہروں سے آئے وہ داد دے سکیں اور اسلام آباد کی خوبصورتی سے متاثر ہوسکیں ‘ایس سی او کانفرنس کے انتظامات اور اسلام آباد کی ترقی کیلئے کام کرنے پر وزیر داخلہ محسن نقوی شاباش کے مستحق ہیں۔وزیراعظم شہبازشریف جناح ایونیو نائتھ ایونیو انٹر سیکشن اور سرینہ چوک کنونشن سنٹر انٹر سیکشن کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔سنگ بنیاد رکھنے تقریب کے دوران چیف کمشنر علی رندھاوا نے وزیراعظم کو منصوبوں سے مکمل تفصیلی بریفنگ دی ، سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات عطاء اللہ تارڑ اور وزیر داخلہ محسن نقوی اور دیگر رہنماء  بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے ۔ سنگ بنیا د رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ ایف نائن کا منصوبہ جو عام حالات میں چھ ماہ میں مکمل ہونا تھا وہ وزیرداخلہ کی کاوشوں سے سو دن کے اندر مکمل ہوجائے گا اور اسی طرح سرینہ کا منصوبہ اللہ کے فضل سے اسے ساٹھ دن کے اندر مکمل کرلیا جائے گا ۔