ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں محض 0.0102 روپے یعنی ایک پیسہ فی یونٹ کمی کردی ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔
یہ کمی مارچ 2026 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت کی گئی ہے اور اس کا اطلاق مئی کے بجلی بلوں میں ہوگا۔نیپرا کے مطابق یہ معمولی ریلیف ملک بھر کے تمام ایکس واپڈا ڈسکوز صارفین کے ساتھ ساتھ حکومتی پالیسی گائیڈ لائنز کے تحت K-Electric کے صارفین پر بھی لاگو ہوگا۔ اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ یہ ایڈجسٹمنٹ ماہانہ فیول لاگت میں ردوبدل کے باعث دی جاتی ہے، تاہم اس بار ریلیف اتنا کم ہے کہ صارفین میں اسے سنجیدہ ریلیف کے بجائے طنز کا موضوع بنایا جا رہا ہے۔دلچسپ امر یہ ہے کہ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (CPPA-G) نے ابتدائی طور پر 26.60 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست دی تھی، لیکن نیپرا نے سماعت کے بعد حساب کتاب میں تبدیلی کرتے ہوئے ایک پیسے کی منفی ایڈجسٹمنٹ منظور کی۔ یعنی عوام جو بجلی بلوں میں خاطر خواہ کمی کی امید لگائے بیٹھے تھے، انہیں ملا تو ریلیف، مگر ایسا کہ شاید بل پر نظر بھی نہ آئے۔
اس فیصلے پر سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں ملا جلا بلکہ طنزیہ ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ ایک طرف گزشتہ مہینوں میں کبھی 1.42 روپے، کبھی 1.62 روپے اور سہ ماہی سرچارجز کی صورت میں کئی کئی روپے فی یونٹ اضافی بوجھ ڈالا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف ایک پیسے کی کمی کو ریلیف بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ عام صارفین اسے "اونٹ کے منہ میں زیرہ" قرار دے رہے ہیں۔نیپرا کے اس نوٹیفکیشن کے بعد یہ تو واضح ہے کہ مئی کے بلوں میں بجلی کی قیمت تکنیکی طور پر کم ضرور ہوگی، لیکن عملی طور پر گھریلو صارف کے ماہانہ بل پر اس کا اثر نہ ہونے کے برابر ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر کسی صارف نے 500 یونٹ بجلی استعمال کی تو اسے کل ریلیف صرف 5 روپے کے قریب ملے گا۔ ایسے میں عوامی سوال یہی ہے کہ کیا اسے واقعی ریلیف کہا جائے یا محض کاغذی کارروائی؟