128 میں سے صرف9ڈسپوزل سٹیشن پر سولر سسٹم لگانے کا عمل جاری
لاہور (کرائم رپورٹر) واسا کی تنصیبات کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا منصوبہ سست روی کا شکار ہو گیا۔ واسا کا مرکزی ڈسپوزل سٹیشن تو جزوی طور پر سولر پر منتقل ہو رہا ہے، لیکن 128 میں سے صرف9ڈسپوزل سٹیشن پر سولر سسٹم لگانے کا عمل جاری ہے۔ باقی 119 ڈسپوزل اور لفٹ سٹیشنز اب بھی لیسکو کی مہنگی بجلی پر انحصار کر رہے ہیں، جب کہ واسا کا بجلی کا سالانہ بل گزشتہ مالی سال میں 6 ارب 30 کروڑ روپے تک جا پہنچا۔سولر پر منتقلی کیلئے لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام کے فنڈز کا استعمال کیا جا رہا ہے، مگر لفٹ سٹیشنز کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کی اب تک کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آ سکی۔فرخ آباد ڈسپوزل پر 370 کلو واٹ، گجومتہ 1.3 ، کٹار بند 920 اور شوکت خانم پر 120 کلو واٹ کا سولر سسٹم لگایا جا رہا ہے۔ شادباغ ڈسپوزل پر 1251 ،ستوکتلہ کو 160 کلو واٹ کے سولر سسٹم کی ضرورت ہے۔سابق حکومت نے واسا کی جانب سے بھیجی گئی سولر پینلز کی سمری پر کوئی اقدام نہیں کیا۔ اب ایم ڈی واسا نے دوبارہ وزیر اعلیٰ کو سمری ارسال کر دی تاکہ رْکے ہوئے فنڈز جاری ہو سکیں۔نشتر آفس میں 50 ، لکشمی 30، آوٓٹ فال روڈ 90 ،ایل ڈی اے ایونیو ون 76، ہڈیارہ 115 اور شادی پورہ پر 300 کلو واٹ کا سولر سسٹم لیسکو کی کھپت کم کرے گا۔ذرائع کے مطابق اگر تمام 128 مقامات پر سولر سسٹمز نصب کر دیے جائیں تو واسا ہر سال اربوں روپے کی بچت کر سکتا ہے، لیکن فی الحال یہ منصوبہ مبینہ سیاسی عدم توجہی اور انتظامی غفلت کا شکار ہے۔