آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھارت سے واپس بھیجے گئے دل کے عارضے میں مبتلا دو بچوں کے علاج کا مکمل طور پر ذمہ لے لیا ہے۔
یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب بھارتی حکومت نے 9 سالہ عبداللہ اور 7 سالہ منسا کو، جو پیدائشی طور پر دل کے عارضے میں مبتلا ہیں، پاکستان واپس بھیج دیا تھا۔ دونوں بچوں کا علاج بھارت کے شہر فرید آباد میں جاری تھا، تاہم بھارتی حکومت نے انہیں علاج کے درمیان 24 اپریل کو غیر انسانی طور پر پاکستان واپس بھیج دیا۔والد شاہد احمد نے اس غیر انسانی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کا علاج کرنے کے لیے سات سال تک بھارت کا ویزا حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے تھے، مگر بی جے پی حکومت کی انتہاپسندانہ پالیسیوں نے ان کے خاندان کو بے حد تکلیف دی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں بچوں کی سرجری کی تیاری کی جا چکی تھی، اور ڈاکٹروں نے سرجری کی تاریخ بھی مقرر کی تھی، تاہم فوراً ان کو واپس پاکستان بھیج دیا گیا۔شاہد احمد نے مزید کہا کہ انہیں اپنے بچوں کے علاج کے لیے پاکستان واپس آنے کے بعد سخت مشکلات کا سامنا تھا، مگر آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے فوراً ان کی مدد کی۔ آرمی چیف کی ہدایات پر بچوں کا علاج اے ایف آئی سی راولپنڈی میں شروع کیا گیا ہے، اور والد نے اس بات کا شکریہ ادا کیا کہ اب انہیں بچوں کے علاج کے حوالے سے کوئی پریشانی نہیں ہو رہی۔
اے ایف آئی سی راولپنڈی کے ڈاکٹر محبوب سلطان نے بتایا کہ دونوں بچوں کو "Tetralogy of Fallot" نامی بیماری ہے، جس میں دل کے اندر سوراخ اور پھیپھڑوں کی نالیوں کی کمزوری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کا علاج مرحلہ وار سرجری کے ذریعے کیا جائے گا، اور اگلے چند دنوں میں پہلا مرحلہ مکمل کیا جائے گا۔بریگیڈئر ڈاکٹر خرم اختر نے بتایا کہ اے ایف آئی سی ایک جدید ترین اسپتال ہے جہاں پیچیدہ دل کی بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کی علاج کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق سرجری فراہم کرتے ہیں اور ان بچوں کا علاج بھی اسی معیار کے مطابق کیا جا رہا ہے۔یہ قدم ایک ایسا مثبت اقدام ہے جس نے نہ صرف پاکستان کی طبی سہولتوں کی صلاحیت کو اجاگر کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر انسانی ہمدردی اور علاج کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا۔