آن لائن کام اور تعلیم ،توانائی بچت پلان کی تیاری ، آج منظوری متوقع،پٹرولیم قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کی تیاری

جنگ، توانائی بحران سر اٹھانے لگا 
  ،ذخیرہ اندوزی ، سمگلنگ کیخلاف کریک ڈا ئون کا منصوبہ ، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مصنوعات کی کم مقدار میں فراہمی کا الزام، اوگرا کو خط،قطرسے ایل این جی کی سپلائی میں جزوی تعطل، کھاد کمپنیوں کی پیداوار بند،سندھ ،بلوچستان  میں گیس  فراہمی کا شیڈول تبدیل ،ذخائر وافر ، فوری قلت کا خدشہ نہیں : بریفنگ 
اسلام آباد،لاہور(خصوصی رپورٹ)خطے میں جیوپولیٹیکل ٹینشن کے باعث پاکستان میں توانائی بچت پلان کی تیاری شروع کردی گئی، ہفتے میں دو دن آن لائن کام اور تعلیمی اداروں کے آن لائن سیشن کی تجاویز شامل،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار ردوبدل کیلئے اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس آج طلب کرلیا گیا، قیمتیں عالمی مارکیٹ کے تحت ایڈجسٹ ہوں گی،تجاویز پر وزیراعظم کو بریفنگ دے دی گئی۔پٹرولیم مصنوعات سٹاک اور کھپت پر ہائی پاورڈ کمیٹی کی طرف سے وزیراعظم کو ارسال  قومی ایکشن پلان کی آج منظوری دئیے جانے کا امکان ہے۔صوبائی چیف سیکرٹریز کو بھی اعلی سطح کمیٹی کی جانب سے اعتماد میں لیا گیا پلان میں شامل کیا گیا ہے کہ سپلائی میں خلل طویل ہو جائے تو طلب کو م ئوثر طریقے سے منظم کرنے کیلئے ہنگامی حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے جبکہ ترجیحی شعبوں کو تحفظ دیا جائے گا وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرصدارت تیل کی سپلائی چین سے متعلق اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ابھی تک پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور فوری قلت کا کوئی خدشہ نہیں ہے اور خطے کی بدلتی صورتحال کے باعث توانائی کی فراہمی پر مسلسل نظر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں، فریٹ اور انشورنس اخراجات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ روکنے کیلئے سخت کریک ڈا ئون کا فیصلہ کیا گیا، صوبائی حکومتوں، اوگرا اور دیگر اداروں کے درمیان مشترکہ کارروائی پر اتفاق کیا گیا ،متبادل سپلائی روٹس اور دوست ممالک سے اضافی تیل کی فراہمی کیلئے رابطے بھی جاری ہیں۔اعلامیہ کے مطابق کمیٹی نے مختلف سپلائی اور قیمتوں کے ممکنہ منظرناموں کا جائزہ لیا تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ملکی توانائی کی فراہمی کو مستحکم رکھا جا سکے اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی منڈی میں جنگی خطرات کے باعث اضافی اخراجات اور ایشیائی منڈیوں میں توانائی کارگو کیلئے بڑھتی مسابقت بیرونی ادائیگیوں پر دبا ئو بڑھا سکتی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تیل کی فراہمی کے تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے متبادل ذرائع اور لاجسٹک انتظامات کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے دوست ممالک اور شراکت دار سپلائرز کے ساتھ سفارتی اور تجارتی رابطوں کے ذریعے خام تیل اور ریفائنڈ مصنوعات کی اضافی سپلائی حاصل کرنے کے امکانات پر بھی کام جاری ہے، جبکہ خطرناک سمندری راستوں کے علاوہ دیگر بندرگاہوں اور روٹس کے استعمال کے آپشنز بھی زیر غور ہیں اس کے ساتھ ساتھ جہازوں کی بروقت برتھنگ اور قومی شپنگ صلاحیت کے استعمال جیسے اقدامات پر بھی غور کیا گیا تاکہ سپلائی میں تاخیر کم کی جا سکے وزیر خزانہ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانا ہے اور تمام پالیسی اور انتظامی فیصلوں میں اسی پہلو کو بنیادی حیثیت دی جائے گی انہوں نے کہا کہ حکومت صورتحال کی روزانہ کی بنیاد پر نگرانی کر رہی ہے اور مختلف ممکنہ حالات کے لیے پیشگی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے ان کا کہنا تھا کہ اگر عالمی قیمتوں میں اتار چڑھا ئو کے باعث دبا ئو پیدا ہوا تو حکومت طے شدہ اور شفاف طریقہ کار کے تحت اقدامات کرے گی تاکہ مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھا جا سکے اجلاس میں ایل این جی اور ایل پی جی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا جس میں سپلائی چین کے خطرات، جہازوں کی آمدورفت کے شیڈول اور ٹرمینل آپریشنز پر غور کیا گیا۔ ارکان نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ اگر سپلائی میں خلل طویل ہو جائے تو طلب کو م ئوثر طریقے سے منظم کرنے کے لیے ہنگامی حکمت عملی اختیار کی جا سکتی ہے جبکہ ترجیحی شعبوں کو تحفظ دیا جائے گا کمیٹی نے ایندھن کے ممکنہ بچا ئو کے اقدامات پر بھی غور کیا جنہیں ماضی میں قومی ہنگامی حالات کے دوران نافذ کیا گیا تھا تاہم اس بات پر زور دیا گیا کہ کسی بھی اقدام کے حوالے سے عوامی آگاہی کو محتاط انداز میں ترتیب دیا جائے تاکہ غیر ضروری تشویش پیدا نہ ہو اجلاس کے اختتام پر فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی اپنی حتمی سفارشات کل تک مرتب کر کے وزیر اعظم کو پیش کرے گی جن میں سپلائی کے تحفظ، نگرانی کے اقدامات، قیمتوں کے نظام اور ممکنہ بچت اقدامات پر مشتمل جامع عملدر آمد منصوبہ شامل ہوگا کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ بدلتی صورتحال کے پیش نظر روزانہ کی بنیاد پر اجلاس منعقد کیے جائیں گے تاکہ ذخائر، سپلائی چین اور مارکیٹ کی صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا سکے۔ادھر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کی ذیلی کمیٹی نے ہدایت کی کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش کے تناظر میں پٹرولیم سپلائی کی صورتحال اور ہنگامی منصوبہ بندی سے متعلق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کو ان کیمرا بریفنگ دی جائے۔اجلاس میں پیٹرولیم سیکٹر کی کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تقرری سے متعلق قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے پاکستان میں پٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 15 مارچ تک 32 روپے فی لٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 50 روپے سے زائد اضافے کا خدشہ ہے جبکہ آئل مارکیٹنگ ایسوسی ایشن نے مقامی ریفائنریز کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے حوالے سے کیے گئے وعدوں سے انحراف پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، چیئرمین طارق وزیر علی نے اوگرا کو اپنے خط میں کہا گزشتہ پروڈکٹ ریویو میٹنگ میں مقامی ریفائنریز نے پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کی جو مقدار دینے کا وعدہ کیا تھا، اس پر تمام فریقین نے اتفاق کیا تھا اور اسی بنیاد پر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے اپنی سپلائی کی منصوبہ بندی کی تھی، بیشتر کمپنیوں نے ریفائنریز کی یقین دہانی پر در آمدی کارگو منگوانے کا انتظام نہیں کیا،تاہم موجودہ مہینے میں ریفائنریز نے اچانک ایک نیا ‘‘ایلوکیشن سسٹم’’ متعارف کرا دیا ہے جس کے تحت او ایم سیز کو پی آر ایم میں طے شدہ مقدار کے بجائے اوسط بنیاد پر کم مقدار میں مصنوعات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال کے باعث او ایم سیز کے پاس موجود لازمی 21 دن کا سٹاک تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ ریفائنریز کی جانب سے سپلائی کم ہی رہی تو آئندہ دنوں میں سٹاک خطرناک حد تک کم ہو سکتا ہے۔انہوں نے اوگرا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کرے، ریفائنریز کو پی آر ایم میں کیے گئے وعدوں کے مطابق سپلائی یقینی بنانے کا پابند بنائے۔ادھر پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے سینئر وائس چیئر مین  عرفان الٰہی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کمپنیاں15 تاریخ تک موجود سستا خریدا ہوسٹاک بچانا چاہتی ہیں تاکہ حکومتی قیمتوں میں اعلان کے بعد مہنگا عوام کو بیچا جاسکے ۔ترجمان اوگرا نے واضح کیا ہے کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں جو قومی طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔پٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی یا انہیں غیر مجاز مقامات پر رکھنے میں ملوث کسی بھی فرد یا ادارے کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، بالخصوص وہ مقامات جو باقاعدہ لائسنس یافتہ آئل ڈپو یا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ریٹیل آ ئوٹ لیٹس کے علاوہ ہوں۔مزید بر آں قطر نے ایل پی جی بندش کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایل این جی کی پیداواری صلاحیت بحال ہونے میں ایک ماہ لگے گا جس سے دنیا بھر کو سپلائی کی جانے والی ایل این جی کی 20 فیصد پیداوار تعطل کا شکار ہو گئی ہے، ایل این جی بند ہونے سے چین، جاپان، بھارت، جنوبی کوریا اور پاکستان زیادہ متاثر ہونگے۔پاکستان کو طے شدہ 800 کیبجائیصرف 200 ایم ایم سی ایف گیس مل سکی، سوئی ناردرن گیس کو600 ایم ایم سی ایف گیس کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔ سوئی ناردرن کے پاس 1200ایم ایم سی ایف گیس دستیاب،ڈیمانڈ 1800ہے۔توانائی بحران سے پاکستان میں زراعت کا شعبہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ کھاد کمپنیوں نے گیس کی کمی کے باعث پیداوار بند کر دی ہے۔جبکہ سوئی سدرن نے ایل این جی در آمد بند ہونے کے باعث رمضان میں گیس شیڈول میں تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق سندھ اور بلوچستان میں گزشتہ سال کی طرح افطار کیلئے گیس دوپہر 3 بجے تا رات ساڑھے 9 تک کھلے گی جبکہ سحری کیلئے گیس سحر صبح 3 بجے تا 9 بجے صبح تک فراہم کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تبدیل شدہ گیس شیڈول کا باقاعدہ اعلان جلد کیا جا سکتا ہے۔