مقدمہ کی بنیاد پر کسی کو عمرہ ادائیگی سے روکنا ایک اہم آئینی سوال ہے:شیخ رشید کیس میں جج کے ریمارکس

راولپنڈی(آئی این پی)سابق وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی عمرہ ادائیگی کے لیے اجازت سے متعلق پٹیشن کی سماعت ہائیکورٹ میں ہوئی۔پٹیشن کی سماعت جسٹس جواد حسن اور جسٹس طارق باجوہ پر مشتمل ڈویژن بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران شیخ رشید احمد اپنے وکیل سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ کی بنیاد پر کسی کو عمرہ ادائیگی سے روکنا ایک اہم آئینی سوال ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس معاملے پر تفصیلی بحث اور دلائل کے بعد ایک تفصیلی اور رپورٹڈ فیصلہ جاری کیا جائے گا۔عدالت نے یہ بھی استفسار کیا کہ جو شخص جب بھی عمرہ پر گیا ہو اور بروقت واپس آیا ہو اسے کیوں روکا گیا۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ مقدمہ کی بنیاد پر عمرہ جانے سے روکنا کیا آئین میں دی گئی آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت کی خلاف ورزی نہیں۔عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں ایف آئی آر کی بنیاد پر کسی کو عمرہ جانے سے نہیں روکا جا سکتا۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ سرکار واپسی کی گارنٹی لے کر سائل کو عمرہ پر جانے کی اجازت دے سکتی ہے ۔