روسی حکام نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی حالیہ گفتگو پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے، اور ان پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کی باتیں یورپ کو عالمی جنگ کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔
فرانسیسی صدر کا یہ بیان مغربی ممالک اور عالمی سیاست پر اثر انداز ہو رہا ہے، جس میں انہوں نے روس کو فرانس اور یورپ کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا تھا۔میکرون نے اپنے خطاب میں یوکرین سمیت دیگر یورپی ممالک کے لیے جوہری صلاحیت فراہم کرنے کی تجویز دی تھی، اور کہا تھا کہ اس کے لیے ایک نیا معاہدہ ضروری ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپ کا مستقبل صرف امریکا اور روس کی مرضی سے نہیں بلکہ خود یورپ کے عوام اور حکومتوں کے فیصلے پر مبنی ہونا چاہیے۔کریملن اور وائٹ ہاؤس کی طرف سے جاری ہونے والے بیانات میں انتباہ کیا گیا ہے کہ ایسے بیانات عالمی امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں اور ایک غلط قدم تیسری عالمی جنگ کی طرف لے جا سکتا ہے۔ روسی حکام نے میکرون کی باتوں کو مغربی ممالک کو مزید تنازعات میں دھکیلنے کے مترادف قرار دیا، جس سے یورپ کی سلامتی اور استحکام خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
میکرون کے خطاب میں یہ بھی واضح تھا کہ وہ یورپ کے دفاع کے لیے نئی حکمت عملی کے خواہاں ہیں، جو روس کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کی گفتگو نے عالمی سطح پر بحث کو ہوا دی ہے کہ آیا یورپ کو دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہیے اور امریکا اور روس کے اثر و رسوخ سے آزاد ہونے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے یا نہیں۔اس بات چیت کے دوران روسی حکام نے واضح طور پر کہا کہ ایسے بیانات عالمی سطح پر مزید کشیدگی پیدا کر سکتے ہیں اور امن کے لیے مضر ثابت ہو سکتے ہیں، خصوصاً جب کہ عالمی سطح پر یوکرین جنگ کے تناظر میں تنازعات مزید بڑھ چکے ہیں۔