بشریٰ بی بی کو عدالت پیش نہ کرنے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ذاتی حیثیت میں طلب

بشریٰ بی بی کو عدالت پیش نہ کرنے پر سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو ذاتی حیثیت میں طلب

اسلام آباد میں انسداد دہشتگری عدالت راولپنڈی بینچ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے دائر توہین عدالت کی دو درخواستوں پر سماعت کی۔

 بشریٰ بی بی کی درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 1 فروری 2025 کی سماعت میں عدالت کے حکم کے باوجود انہیں اڈیالہ جیل سے پیش نہیں کیا گیا، جس پر انہوں نے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی۔ان درخواستوں میں کہا گیا کہ عدالت نے بشریٰ بی بی کو ذاتی طور پر پیش کرنے کا حکم دیا تھا، مگر عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی۔ بشریٰ بی بی کے وکلاء فیصل ملک ایڈووکیٹ اور غلام حسنین مرتضیٰ ایڈووکیٹ نے درخواست میں کہا کہ جیل حکام نے عدالتی حکم کو نظرانداز کیا اور بشریٰ بی بی کو عدالت میں پیش نہیں کیا، جس سے عدالت کے حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔

عدالت کے جج امجد علی شاہ نے اس پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو 6 فروری کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں طلب کر لیا اور اس بابت جواب طلب کیا۔ اس سماعت میں عدالت نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے وضاحت مانگی ہے کہ کیوں عدالت کے حکم پر عمل درآمد نہیں کیا گیا اور اس کو توہین عدالت کے طور پر کیوں نہ لیا جائے۔یہ سماعت بشریٰ بی بی کی قانونی ٹیم کی درخواستوں کے حوالے سے اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ اس میں جیل حکام کے خلاف عدالتی حکم کی خلاف ورزی کا معاملہ زیر غور آ رہا ہے۔