لاہور ہائی کورٹ نے انجینئر محمد علی مرزا کی درخواست پر اہم سماعت کی اور اس میں ڈی جی ایف آئی اے اور چیئرمن پنجاب قرآن بورڈ سے جواب طلب کر لیا ہے۔
عدالت کا یہ حکم اس درخواست کے حوالے سے آیا ہے جس میں انجینئر مرزا نے ایف آئی اے کی تحقیقات اور پنجاب قرآن بورڈ کی جانب سے جاری کردہ فتویٰ کے خلاف کارروائی کی درخواست دائر کی ہے۔سماعت جسٹس شہرام سرور پر مشتمل بنچ نے کی، جس میں انجینئر مرزا محمد علی نے اپنی درخواست کی وکالت ایڈووکیٹ نبیل جاوید کاہلوں کے ذریعے کی۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایف آئی اے نے بغیر نوٹس کے ان کے خلاف تحقیقات شروع کی ہیں، جو قانونی طور پر درست نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، درخواست گزار کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایف آئی اے نے ایک سوشل میڈیا ویڈیو پر پنجاب قرآن بورڈ کو درخواست بھیجی، تاکہ اس سے فتویٰ لیا جا سکے، اور پنجاب قرآن بورڈ نے ایک پرانی ویڈیو کی بنیاد پر انہیں گناہ گار قرار دے دیا۔
درخواست میں یہ موقف بھی پیش کیا گیا ہے کہ پنجاب قرآن بورڈ کو کسی قسم کا فتویٰ جاری کرنے کا اختیار نہیں ہے کیونکہ اس کا کام صرف قرآن پاک کی اشاعت کی نگرانی ہے۔ اس لیے، درخواست گزار نے استدعا کی کہ عدالت وہ فتویٰ بھی کلعدم قرار دے، جس پر انہیں گناہ گار قرار دیا گیا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ ایف آئی اے کی جاری کردہ تحقیقات کو بھی ختم کرنے کا حکم دیا جائے۔اس مقدمے کی سماعت کے دوران، عدالت نے ایف آئی اے اور پنجاب قرآن بورڈ کو جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے اور آئندہ سماعت کے لیے تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ یہ درخواست اس حوالے سے اہمیت رکھتی ہے کہ اس میں عدلیہ اور دیگر اداروں کے دائرہ اختیار، فتویٰ جاری کرنے کے حدود اور سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز کے حوالے سے قانونی موقف کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔