سینیٹ اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے شدید احتجاج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر نے اجلاس میں عون عباس بپی کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کا اجلاس یہاں روک دینا چاہیے جب تک کہ عون عباس بپی کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کیے جائیں۔سینیٹر منظور کاکڑ نے پوائنٹ آف آرڈر نہ ملنے پر بھی احتجاج کیا اور ایوان کی کارروائی کو چیلنج کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں ایوان میں بات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔اس کے بعد سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف شبلی فراز نے عون عباس بپی کی گرفتاری پر شدید اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس عون عباس بپی کی گرفتاری کی ویڈیو موجود ہے، جس میں گرفتار کرنے والوں نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گھر میں توڑ پھوڑ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عون عباس بپی کو قانونی تقاضے پورے کیے بغیر گرفتار کیا گیا۔وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عون عباس بپی کی گرفتاری کے حوالے سے پنجاب پولیس سے تفصیلات حاصل کی گئی ہیں اور ان کے خلاف بہاولپور کے تھانہ دلاوڑ میں غیر قانونی شکار کا مقدمہ درج ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عون عباس بپی غیر قانونی حراست میں نہیں ہیں اور وہ قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔اس دوران پی ٹی آئی کے سینیٹرز کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ عون عباس بپی کے ساتھ جو سلوک کیا گیا، وہ غیر قانونی تھا، اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کی جائیں اور عون عباس بپی کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں تاکہ وہ سینیٹ اجلاس میں شرکت کر سکیں۔یہ احتجاج سینیٹ کی کارروائی میں خلل ڈالنے کا باعث بنا اور اس کے بعد پی ٹی آئی کے سینیٹرز نے ایوان سے واک آؤٹ کر لیا، جس کے بعد سینیٹ کی کارروائی کچھ دیر کے لیے معطل ہو گئی۔