سینیٹ اجلاس میں ہندو سینیٹر دنیش کمار نے رمضان کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے پر تنقید کی اور مسلمانوں کو منافع خوری کے خلاف غیرت دلانے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ رمضان میں مسلمانوں کی جانب سے منافع خوری بڑھ جاتی ہے، جس سے اقلیتی برادری کے تاجروں سے درخواست کی کہ وہ مسلمانوں کے لیے سستے بازار لگائیں تاکہ انہیں رمضان میں مشکلات کا سامنا نہ ہو۔دنیش کمار نے کہا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ مسلمان اس مہینے میں اتنی زیادہ منافع خوری کرتے ہیں۔ تاہم، ڈاکٹر افنان اللہ نے اس صورتحال کو ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کا مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ یہ مسلمانیت کا معاملہ نہیں بلکہ فنانس کے اصولوں پر مبنی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت 40 ہزار خاندانوں کو 10 ہزار روپے دے رہی ہے تاکہ ان کی مدد کی جا سکے۔سینیٹر ندیم احمد بھٹو نے رمضان میں منافع خوری کے حوالے سے سوال اٹھایا اور کہا کہ جب شیاطین بند ہو جاتے ہیں تو پھر یہ ناجائز منافع خوری کہاں سے آتی ہے۔