امریکا نے حال ہی میں یوکرین کو فراہم کی جانے والی فوجی امداد کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار کے مطابق، امداد کو روک کر اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ کسی حل میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔امریکا، روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے یوکرین کو اسلحہ فراہم کرنے والا ایک اہم ملک رہا ہے۔ تین سال قبل روس کے حملے کے آغاز کے بعد، امریکا نے یوکرین کو بڑی مقدار میں ہتھیار فراہم کیے ہیں۔امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمین نے کہا ہے کہ مغربی ممالک اب تک یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے میں کامیاب رہے ہیں، لیکن آنے والے دنوں میں یہ مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
تاہم، حالیہ اطلاعات کے مطابق، یوکرین کو فوجی سامان کی فراہمی مختصر عرصے کی معطلی کے بعد بحال کر دی گئی ہے۔اس کے علاوہ، امریکا نے یوکرین کو اسٹار لنک انٹرنیٹ سروس بند کرنے کی بھی دھمکی دی ہے۔ امریکی خصوصی ایلچی جنرل (ریٹائرڈ) کیتھ کیلوگ نے یوکرین کی حکومت کو پیغام دیا ہے کہ اگر یوکرین نے اپنے نایاب معدنیات تک امریکا کو رسائی نہ دی تو اسٹار لنک کی انٹرنیٹ سروس بند کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا کے اندر یوکرین کی حمایت پر شدید بحث جاری ہے اور صدر ٹرمپ کی نئی پالیسیوں کے تحت یوکرین کی مدد میں ممکنہ کمی متوقع ہے۔