وفاق کی غیرسنجیدگی و سرد مہری کے باعث دہشتگردی میں اضافہ ہو رہا :بیرسٹرسیف

 دہشتگردی قومی مسئلہ ، وفاقی حکومت اس حوالے سے تمام ذمہ داری صوبے پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی
صوبائی حکومت ملک اور صوبے کے وسیع تر مفاد میں افغانستان میں وفد بھیج رہی ہے، مشیراطلاعات خیبرپختونخوا
    پشاور (یواین پی) خیبر پختونخواہ کی صوبائی حکومت نے دہشت گردی کی روک تھام کے حوالے سے وفاق کے کردار پر برہمی کا اظہار کردیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں مشیر اطلاعات خیبر پختونخواہ بیرسٹر سیف نے کہا کہ دہشتگردی صرف خیبر پختونخواکا نہیں قومی مسئلہ ہے، وفاقی حکومت اس حوالے سے تمام ذمہ داری صوبے پر ڈال کر خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی، وفاقی حکومت دہشت گردی کے معاملے پر انتہائی غیر سنجیدہ رویہ اپنا رہی ہے، وفاق کی غیر سنجیدگی اور افغانستان کے ساتھ سرد مہری کے باعث دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نہ خود افغانستان سے مذاکرات کر رہی ہے اور نہ ہمیں کرنے دے رہی ہے، خیبر پختونخواہ حکومت نے افغانستان سے بات چیت کے لیے وفاق کو ٹی او آرز بھیجے لیکن وفاق نے ٹی او آرز سرد خانے میں ڈال دیئے ہیں اور تاحال کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، وفاقی حکومت فوری طور پر ٹی او آرز کی منظوری دے تاکہ افغانستان سے مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوسکے، اسی حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت ملک اور صوبے کے وسیع تر مفاد میں افغانستان میں وفد بھیج رہی ہے کیوں کہ عوام کے جان و مال کا تحفظ خیبر پختونخوا حکومت کی اولین ترجیح اور بنیادی ذمہ داری ہے۔مشیر اطلاعات خیبر پختونخواہ نے مطالبہ کیا کہ وفاق ٹی او آرز کی منظوری میں مزید تاخیر سے گریز کرے تاکہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے مسئلے پر فوری اقدامات کرسکے، وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسئلے کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے بیرونی دوروں پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا، اگر مریم نواز بھارت سے سموگ ڈپلومیسی کر سکتی ہیں تو خیبر پختونخواہ حکومت کو بھی دہشت گردی جیسے اہم مسئلے پر افغانستان سے بات چیت کا موقع ملنا چاہیے۔