دہشتگردی کیخلاف تعاون پر پاکستان کا شکریہ :ٹرمپ امریکی قومی سلامتی کے مشیر کا بھی اسحاق ڈار کو فون

افغانستان سے بڑے دہشت گردی کی گرفتاری میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا‘ اس کو امریکہ لا کر سزا دی جائے گی افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا ء  انتہائی شرمناک تھا‘ یہ فیصلہ سکیورٹی پالیسی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے: امریکی صدر 
اسحاق ڈارنے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی‘  صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ پاکستان اپنے دیرینہ اور وسیع البنیاد تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا‘امریکہ کیساتھ تعاون جاری رہے گا:نائب وزیراعظم

واشنگٹن (آئی ا ین پی‘مانیٹرنگ ڈیسک)  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان میں دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا ہے۔کانگریس سے اپنے طویل  خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انتہاپسند دہشتگردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ افغانستان میں ایک بڑا دہشتگرد پکڑا گیا ہے۔امریکی صدر نے پاکستان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں حکومت پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ اس دہشتگرد کی گرفتاری میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ساڑھے تین سال پہلے داعش نے 13 امریکیوں کو افغانستان میں قتل کیا تھا، اور اب اس مجرم کو امریکا لا کر قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کو انتہائی شرمناک قرار دیا۔ ان کے مطابق، یہ فیصلہ امریکا کی پوزیشن اور سیکیورٹی پالیسی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔دریں اثناء نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور امریکی قومی سلامتی کے مشیر کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو ہوئی جس میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر نے دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کو امریکی قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز نے ٹیلی فون کال کی۔ امریکی مشیر برائے قومی سلامتی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی حکومت کی انسدادِ دہشت گردی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر شکریہ اور تعریف کا پیغام پہنچایا۔نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کو ان کے عہدے کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ پاکستان اپنے دیرینہ اور وسیع البنیاد تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔انہوں نے انسدادِ دہشت گردی کے شعبے میں امریکا کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور افغانستان میں چھوڑے گئے امریکی فوجی سازوسامان کی واپسی کے صدر ٹرمپ کے اعلان کو سراہا۔دونوں فریقین نے آئی ٹی، توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ گفتگو میں تجارت، سرمایہ کاری، ماحولیاتی تبدیلی اور صحت کے امور پر مسلسل بات چیت جاری رکھنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ باہمی تعاون کے وسیع تر ایجنڈے کو آگے بڑھایا جا سکے۔