نیتن یاہو نے تسلیم کرلیا: حماس کے خلاف گروہ کو اسرائیل نے مسلح کیا

نیتن یاہو نے تسلیم کرلیا: حماس کے خلاف گروہ کو اسرائیل نے مسلح کیا

اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے حال ہی میں ایک اہم اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کے جنوب میں ایک مخصوص گروہ کو مسلح کیا ہے جو حماس کے خلاف سرگرم ہے۔

 یہ ہتھیار وزیرِاعظم کی خصوصی ہدایت پر فراہم کیے گئے تاکہ حماس کے خلاف لڑائی میں اس گروہ کی مدد کی جا سکے اور اسرائیلی فوجیوں کی حفاظت کو بہتر بنایا جا سکے۔برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوجی اہلکاروں نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ نیتن یاہو کی ہدایات پر یہ اقدام اٹھایا گیا ہے۔ تاہم، اس اقدام نے اسرائیل کے اندر سیاسی حلقوں میں شدید بحث کو جنم دیا ہے اور مختلف سیاستدانوں نے اس پر تنقید کی ہے۔اسرائیلی حزب اختلاف کے رہنما ایویگڈور لائبر مین نے اس فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت نے "ابو شباب" نامی ایک ایسے گروہ کو ہتھیار دیے ہیں جو دراصل مجرموں اور راہزنوں پر مشتمل ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ایسے گروہوں کو مسلح کرنا اسرائیل کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے اور اس سے ملک میں امن و استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو نے اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام فوجیوں کی جان بچانے کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس سے ہمارے فوجی محفوظ رہیں تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

 نیتن یاہو کے مطابق، موجودہ صورتحال میں ایسا کوئی بھی قدم جائز اور ضروری ہے جو فوجیوں کی حفاظت کو یقینی بنا سکے۔یہ فیصلہ اسرائیل کی غزہ پالیسی میں ایک نیا موڑ ہے، جہاں اسرائیل نے روایتی طور پر حماس کو براہ راست نشانہ بنایا ہے، لیکن اب ایک اندرونی گروہ کو مسلح کر کے علاقائی کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس سے علاقائی سلامتی کی صورتحال اور بھی نازک ہو گئی ہے، اور اس کے ممکنہ اثرات طویل المدت میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تعلقات پر پڑ سکتے ہیں۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا ہے جب غزہ میں جاری کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور دونوں جانب سے شدید جنگی کارروائیاں ہو رہی ہیں، جس میں عام شہریوں کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اسرائیل کی اس حکمت عملی نے خطے میں حالات کو مزید الجھا دیا ہے اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی اس پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔