اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے خبردار کیا ہے کہ اگر حماس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ غزہ جنگ بندی منصوبے کو رد کیا تو اسرائیل "اپنا کام مکمل کرے گا"۔
نیتن یاہو کے مطابق یہ منصوبہ اسرائیل کے سلامتی اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے اور اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ غزہ دوبارہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بنے۔گزشتہ روز وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے ہمراہ پریس کانفرنس میں غزہ جنگ بندی منصوبے کا اعلان کیا، جسے انہوں نے مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی دن" قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ متعدد عرب و مسلم رہنماؤں نے منصوبے کی حمایت کی ہے، جن میں پاکستان، ترکیہ، اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ٹرمپ نے مزید کہا کہ اگر حماس اس معاہدے کو تسلیم نہ کرے تو اسرائیل کو حماس کے خاتمے کے لیے امریکی پشت پناہی حاصل ہوگی۔دوسری جانب پاکستان، سعودی عرب، مصر، قطر، اردن، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور انڈونیشیا سمیت کئی مسلم ممالک نے ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے کا خیر مقدم کیا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ منصوبے میں غزہ کی تعمیر نو، جبری بے دخلی کی روک تھام، جنگ بندی اور ایک جامع امن عمل کو آگے بڑھانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 66 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 68 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔یہ منصوبہ اس خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور ایک طویل المدتی امن عمل کے قیام کی کوشش ہے، مگر اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث اس پر عمل درآمد چیلنجز کا شکار ہو سکتا ہے۔